سنگاپور سے نواز شریف کے مبینہ ایک بلین ڈالر واپس لانے کا معاملہ کس مطالبے پر کھٹائی میں پڑا؟

پاکستانی نجی انگریزی اخبار کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی حکومت اور ایسیٹ ریکوری فرم براڈشیٹ کے درمیان ایک مبینہ ڈیل صرف اس لیے ختم ہوئی کیونکہ ایک پاکستانی آفیشل کی جانب سے اپنے حصے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس اخبار کا دعویٰ ہے کہ دستیاب دستاویز کے مطابق نواز شریف کے سنگاپور بینک میں سعودی عرب سے بھیجے گئے ایک بلین ڈالر وطن واپس لانے کے لیے براڈ شیٹ سے نئی ڈیل کی جا رہی تھی کہ ملاقات میں موجود ایک سینئر پاکستانی آفیشل کو سب سے زیادہ اپنے حصے میں دلچسپی تھی جس پر براڈشیٹ نے مخالفت کی جس کے نتیجے میں یہ ڈیل ختم کرنی پڑی۔

براڈ شیٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کاوے موساوی نے کہا کہ ان کی نیب کے ساتھ تمام معاملات اور پہلوؤں پر بات ہوئی تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی عہدیدار نے جب اُن سے ملاقات کر کے نئے معاہدے کیلئے رشوت مانگی تھی تو اس وقت شہزاد اکبر موجود نہیں تھے۔

سی ای او کاوے موساوی نے شہزاد اکبر پر شدید تنقید کی کیونکہ انہوں نے درست انداز سے بات چیت نہیں کی جس کی وجہ سے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات میں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ شہزاد اکبر نے فیصلے کی رقم اور حکومت پاکستان کے اخراجات میں ’’ڈسکاؤنٹ‘‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

براڈ شیٹ کے سی ای او نے کہا کہ انہوں نے شہزاد اکبر سے دو مرتبہ ملاقات کی جن میں سے ایک رائل گارڈنز ہوٹل اور دوسری چیلسی آرٹس کلب میں ہوئی جس میں مقدمہ بازی کے خاتمے پر بات ہوئی لیکن شہزاد اکبر اُس وقت موجود نہیں تھے جب کیفے راؤج میں ایک پاکستانی عہدیدار کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی جس میں اس افسر نے رشوت مانگی۔

لندن کے کیفے راؤج میں ہونے والی ملاقات میں اس عہدیدار نے موساوی سے کہا کہ وہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں کیونکہ پاکستانی حکومت میں موجود لوگ اب اس کیس کو نمٹانا چاہتے ہیں مگر پھر بھی اگر وہ اس پر مزید تحقیقات میں تعاون چاہتے ہیں اور انہیں اپنا حصہ ملنے کی یقین دہانی کرانا ہو گی۔

کیس سے متعلق دستاویز کے مطابق اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کیس سے متعلق کم اور کسی مجرمانہ کارروائی جیسی زیادہ تھی جس میں ایک ایسیٹ ریکوری فرم کے سی ای او سے کوئی پاکستانی عہدیدار رشوت طلب کر رہا تھا جو کہ موساوی کے مطابق کسی صورت بھی قابل قبول نہیں تھا اسی لیے اس کیس کی پیروی چھوڑ کر ڈیل کینسل کی گئی تھی۔

کاوے موساوی نے کہا کہ اسی وجہ سے یہ معاہدہ ناکام ہوا کیونکہ ان ملاقاتوں میں شامل زیادہ تر افراد معاہدے کی شرائط سے زیادہ ایک دوسرے کے خلاف بات کرتے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت کے مطالبے سے متعلق خبر پاکستانی حکومت کو دی تھی۔

    • اؤے رانے ، پوچھ تو ایسے رہا ہے جیسے پاکستان کا والی وارث تو خود ہے ۔ تیری پھنے خانی جہانگیر ترین پہ کتنی چلی جو تیرے گھٹیا لیڈر کی گود میں بیٹھ کر لوگوں کی شکر کھا گیا تھا ۔ پہلے اس تیلے کو بونگی کے نچلے خانے سے نکال پھر پوچھنا کہ دوسرا خصم عاصم باجوا پاکستان کے پاپا جان کے کتنے پیزے ڈکار چکا ہے ، بے شرم بات کرتے ہیں صادق اور امین بننے کی ۔ اور باجوہ کو نیچے گھسایا ہوا ہے ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >