لاکھوں ڈالر کی ادائیگی، براڈ شیٹ اسکینڈل میں مزید انکشافات

براڈشیٹ اسکینڈل میں ہر روز نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں، تازہ ترین معلومات کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کا ایک خط سامنے آیا ہے جس میں نیب کے زیر استعمال ایک اکاؤنٹ میں لاکھوں ڈالر کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو براڈ شیٹ نے نکال لیے ہیں۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے نیب، دفتر خارجہ، اٹارنی جنرل اور فنانس ڈویژن کو لکھا گیا ایک خط منظر عام پر آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کے زیراستعمال ایک بینک اکاؤنٹ میں 26.15 ملین ڈالر کی رقم موجود ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق نیب کی جانب سے براڈ شیٹ کو 28.7 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنی ہے، اکاؤنٹ میں 2.55 ملین ڈالر کم ہیں، نیب سے درخواست ہے کہ فوری طور پر باقی رقم اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی جائے بصورت دیگر حکومت پاکستان کو قانونی اور مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ براڈ شیٹ نے اس اکاؤنٹ میں رقم مکمل ہونے پر 31 دسمبر کو عدالتی حکم کے مطابق 28.7 ملین ڈالر کی رقم نکال لی ہے، اس ادائیگی کیلئے یو بی ایل بینک کی جانب سے ہائی کمیشن کو خبردار بھی کیا گیا تھا۔

خط کے مطابق بینک کی جانب سے یکطرفہ ادائیگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بینک کو آگاہ کرچکے ہیں کہ اس ادائیگی سے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، ویانا کنونشن کے تحت ہمارے اکاونٹس سفارتی استثنی رکھتے ہیں، بینک اکاؤنٹس کسی صورت بھی بغیر اجازت استعمال نہیں کیے جاسکتے۔

تاہم اس سارے معاملے میں چند سوالات سر اٹھانے لگے ہیں کہ نیب کے زیراستعمال اس اکاؤنٹ میں اتنی خطیر رقم کہاں سے آئی، براڈ شیٹ کو دی جانے والی رقم سے کم پڑنے ڈھائی ملین ڈالر چند گھنٹوں کے نوٹس پر کس کے حکم اور مرضی سے اس اکاؤنٹ میں جمع کیے گئے کیا اکاؤنٹ میں موجود رقم، مزید رقم جمع کروائے جانے اور براڈ شیٹ کو ادائیگی کے معاملے پر حکومت پاکستان کو آگاہ رکھا گیا؟

اس حوالے سے سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کا کہنا تھا کہ یہ سارا معاملہ مشکوک ہے، ہم ایک ایسی کمپنی کو ادائیگی کررہے ہیں جو 2008 میں بنائی گئی، جس کمپنی کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ تھا وہ کمپنی 2007 میں تحلیل ہوگئی تھی، ایک سال بعد اس کمپنی کو دوبارہ قائم کیا گیا اس وقت کی حکومت نے نئی قائم ہونے والی کمپنی کے دعویٰ کو منظور کیا۔

ارشد شریف نے کہا اس وقت بھی اس کمپنی کو ادائیگی کی گئی، اور آج پھر ہم قوم کے پیسے سے اتنی رقم کسی کمپنی کو ادا کررہے ہیں، اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا، ان ادائیگیوں کو کس کس کو حصہ ملتا ہے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے، حکومت پاکستان اور عمران خان کو اس حوالے سے نوٹس لینا ہوگا اور تحقیقات کروانا ہوں گی کہ کون لوگ حکومت کو ماموں بنا کر قوم کے پیسے لوٹ رہے ہیں۔

  • جناب ۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ والی ایک ہی کمپنی ہے۔ ۲۰۰۷ والی کمپنی بند نہی ہوئی تھی بلکہ ۲۰۰۸ والی کمپنی میں ضم ہوئی تھی۔ اس لئے ان کا کلیم ویلڈ ہے اور ان کا یہ کلیم عدالت کے فیصلے کے تحت ہے۔ کوئی ایسا نہی ہے کہ انہوں نے ایک رقم کلیم کی اور ہم نے دے دی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >