پختونخوا اسمبلی:خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے بل منظور، سخت سزائیں شامل

پختونخوا اسمبلی:خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے بل منظور، سخت سزائیں شامل

پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے بل منظور کر لیا جس کے مطابق خاتون پر معاشی، نفسیاتی اور جنسی دباؤ تشدد کے زمرے میں آئیں گے جس کے مرتکب شخص کو 5 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

نئے پاس ہونے والے بل کے تحت ضلعی تحفظاتی کمیٹی بنائی جائے گی جو خواتین کو طبی امداد، پناہ گاہ اور معقول رہنمائی فراہم کرے گی۔ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔

بل کے مطابق تشدد کے بعد ہیلپ لائن پر اطلاع کے بعد15 روز کے اندر اندر عدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی۔ جس کے بعد عدالت کیس کا فیصلہ2 ماہ کے اندر اندر سنانے کی پابند ہو گی۔

ملزم اگر عدالتی فیصلے سے اختلاف یا قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے ایک سال تک قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں پاس ہونے والا حقوق نسواں کا یہ بل8 سال سے طوالت کا شکار تھا جسے 11 فروری2019کو تحریک انصاف کی حکومت نے دوبارہ پاس کرنے کی تجویز دی تھی۔ جسے اب مکمل طور پر اسمبلی سے منظور کرالیا گیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق گھریلوتشدد کے مرتکب شخص کو تعزیرات پاکستان کے تحت پی پی سی کی دفعہ 1860 کی ذیلی شق (1) کے تحت مجرم تصور کر کے کم ازکم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ سزا بھی سنائی جا سکے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >