قصور:100سے زائد بچیوں سے جنسی زیادتی،انتظامیہ کی ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی

قصور، 100 سے زائد بچیوں سے جنسی زیادتی،میڈیا کی ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی
خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ قصور کے موضع بنگلہ کمبوہاں میں واقع زینب انسٹیٹیوٹ نرسنگ کالج میں 100 سے زائد طالبات کو امتحانات میں پاس کرانے کا لالچ دے کر ان کا جنسی استحصال کیا گیا ہے۔ ادارے میں موجود ایک طالبہ نے آواز اٹھائی تو اسے نشان عبرت بنا دیا گیا۔

ننھی زینب کے بعد اب ایک بار پھر قصور میں بچیوں کی عزت سے کھیلنے کا گھناؤنا کھیل شروع ہو چکا ہے جس میں پپو نلکا نامی مقامی صحافی ملوث ہے جو کہ ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اس خبر رساں ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ زینب انسٹیٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں میں 100 سے زائد بچیوں کی عزتوں سے کھیلا گیا ہے مگر پنجاب پولیس اب تک صرف 2مقدمات درج کر نے کے بعد ان مقدمات پر بھی کارروائی سے گریزاں ہے۔

قصور:100سے زائد بچیوں سے جنسی زیادتی،انتظامیہ کی ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی

حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ پپونلکا نامی اس جعلی صحافی کو مجرموں کی پشت پناہی سے روکنے کے لیے سخت کارروائی کرے تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دی جا سکے۔

قصور:100سے زائد بچیوں سے جنسی زیادتی،انتظامیہ کی ایک بار پھر مجرمانہ خاموشی
فائل فوٹو: پپو نلکا

اس واقعہ سے باخبر سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پپو نلکا نامی مقامی جعلی صحافی پولیس کو کارروائی کرنے سے روکتا اور ڈراتا دھمکاتا ہے اور پولیس بھی اس گناہ میں پپو نلکا کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ پولیس کو اس شخص کے اثرورسوخ سے آزاد کرا کے کارروائی کی ہدایت دی جائے۔

  • قصور اور بارڈر پر گاوں والا علاقہ تو ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا ہوا ہے، پولیسک چھ نہیں کرے گی کیونکہ ان کے منہ کو حرام لگا ہوا ہے، اس کے علاوہ یہاں کے زیادہ تر مجرم اور سمگلر جو بارڈ کے دونوں اطراف آتے جاتے رہتے ہیں فوج کی پشت پناہی بھی رکھتے ہیں بہتر ہوگا کہ جس کی بیٹی کو کوی تنگ کرتا ہے وہ اخبار اور میڈیا میں اس کو وارننگ دے اور اگر پھر بھی وہ باز نہ آے تو اسے اپنے ہاتھ سے گولی مار دے
    اگر پولیس کو رپورٹ بھی کروا دی جاے تو بہت ہوگا کیونکہ بعد میں جب کیس چلے گا تو وہ تمام شواہد عدالت میں پیش کرسکتا ہے کہ مجرم کو خود سزا دینے سے پہلے اس نے تمام قانونی کوششیں کی تھیں

    • U R Right. Army nahi Border per Ranger hai aur Ranger in smugglers k saath milli hoi hai wo ba asaani border k aar paar smuggling karte hein. aur jab ooper se pressure aaey ya koi inhein in ka hissa na de ya baaghi ho jaey to ussey ye golioo se chalni kar dete hein. qasoor city border area k jitne b villages hein waha k rehne wale bohat kuj jante hein. jaha tak baat girls k rape ke hai to bhai poore punjab mein powerful logo k samne hamari police awara kuttey k jesi hesiyat rakhti hai, jinhein haddi de jati hai aur wo log aankhein aur kaan bund ker dete hein..


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >