گلوبل فنڈ نے انڈس ہسپتال پر 42 لاکھ ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کر دیا

گلوبل فنڈ نے انڈس ہسپتال پر 42 لاکھ ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کر دیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی گلوبل فنڈ جو ہر سال ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کے خلاف لڑنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کو فنڈز فراہم کرتا ہے کی جانب سے انڈس ہسپتال پر 42 لاکھ ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

گلوبل فنڈ نے اپنے الزام میں کہا ہے کہ انڈس ہسپتال نے ٹی بی کے خاتمے کے لیے ملنے والی بڑی گرانٹ میں سے 42 لاکھ ڈالر کا فراڈ کیا ہے، گلوبل فنڈ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انڈس ہسپتال کی سی ای او نے کہا ہے کہ انڈس ہسپتال پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

انڈس اسپتال کے سی ای او کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں سے ملنے والے فنڈز کو استعمال کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس طریقہ کار موجود ہے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے بین الااقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والے فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔

گلوبل فنڈ کی جانب سے 2016 سے 2018 کے درمیان ہسپتال کے ٹی بی پروگرام میں فراڈ کو سامنے لایا گیا ہے اور اس فراڈ پر عالمی ادارے کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ عالمی ادارے نے مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد 31 دسمبر 2020 سے انڈس ہسپتال کو پروگرام سے الگ کر دیا ہے، جس کے بعد انڈس ہسپتال ٹی بی اور ایڈز سے لڑنے کے لیے ملنے والی امداد سے محروم ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ گلوبل فنڈ ہر سال ایک سو ممالک کو ٹی بی، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں سے لڑنے کے لیے چار ارب ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کرتا ہے تاکہ وہ افراد جو اس جان لیوا بیماری کے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنا علاج کروا سکیں، اسی پروگرام کے تحت 2003 سے اب تک پاکستان کو 69 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی گرانٹ مل چکی ہے۔

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >