حکومت کا کراچی میں دوبارہ مردم شماری کرانے کا عندیہ

وفاقی وزیر برائے خصوصی اصلاحات اسد عمر کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے وفد نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادر آباد  مرکز پر کنوینئر خالد مقبول صدیقی اور دیگر کے ساتھ ملاقات کی ہے، دونوں وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال کے علاوہ مردم شماری کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے کروائی گئی سندھ میں مردم شماری پر ہر دفعہ سوالات اٹھتے ہیں، خصوصی طور پر کراچی میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج پر ہمارے تحفظات ہیں اور ہم اپنے تحفظات کا اس سے قبل بھی حکومت کے سامنے اظہار کرچکے ہیں، آج کی ملاقات میں بھی مردم شماری کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

کنوینئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ دوبارہ سے مردم شماری جلد کروائی جائے اور اسی مردم شماری کے نتائج پر آئندہ کے عام انتخابات کروائے جائیں اور آج کے اجلاس میں دوبارہ مردم شماری کروانے پر بات چیت کی گئی ہے، اس کے علاوہ آج کی ہونے والی ملاقات میں ہم نے مردم شماری کے فیصلے کو سی ای سی کو بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ جس مردم شماری کے نتائج کے بارے میں ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے وہ ہم نے نہیں بلکہ سابقہ حکومت نے کروائی تھی، جس پر چاروں صوبوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں اور چاروں صوبوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم چاروں صوبوں کے تحفظات کو دور کرنا پچھلی حکومت کا کام تھا لیکن انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو تحفظات ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ٹیکنیکل ٹیم بنادی گئی ہے جس کی سربراہی  وفاقی وزیر برائے آئی ٹی امین الحق کر رہے ہیں، تاہم جیسے ہی ان کی جانب سے سفارشات مکمل کرلی جائیگی انہیں کابینہ کے سامنے رکھ کر دوبارہ سے جلد از جلد مردم شماری کروانے کی سفارش کی جائے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>