پی آئی اے کے لیز پر لئےگئے طیارے کی کمپنی کے مالک ،ڈائریکٹر بھارتی نکل آئے

پی آئی اے کے لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک،ڈائریکٹر بھارتی نکلا

بھارت پاکستان کیخلاف سازش کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، جب جہاں موقع ملے پاکستان کیخلاف اپنا زہر اگل ہی دیتا ہے، پی آئی اے کے بوئنگ 777طیارے کی لیز سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا۔

ملائیشیا میں پی آئی اے کے طیارے کو روکنے میں مبینہ طور پر بھارتی سازش ہوسکتی ہے، لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور اہم شعبوں پر تعینات ڈائریکٹر کا تعلق بھارت سے ہے،پری گرائن کمپنی کا دفتر دبئی میں قائم ہے،پاکستان کی قومی ایئر لائنز پی آئی اے انتظامیہ معاملے پر غور شروع کردیا ہے۔

کورونا سے دنیا بھر کی فلائٹس پر دباؤ بڑھا تو پی آئی اے نے بھی لیز میں ریلیف طلب کرلیا، جس پرملائیشیا میں پی آئی اے کا طیارہ مسافروں سمیت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے ملکی خزانے کا پیسہ بچانے کی کوشش کررہی ہے، ن لیگی دور میں میں پی آئی اے نے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مہنگی لیز پر طیارہ لیا تھا۔

ترجمان کے مطابق پری گرائن کمپنی سے لیے گئے 777 کی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی، طیارے یورپ اور برطانیہ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے تھے، پی آئی اے ان طیاروں کو چین اور فار ایسٹ کے لیے آپریٹ کرنے پر مجبور تھی۔

دو روز قبل پی آئی اے کا 777 بوئنگ طیارے کو کوالالمپور ایئرپورٹ پر روک لیا گیا تھا، بوئنگ طیارے کو لیز کمپنی کو ادائیگی نہ ہونے پر روکا گیا تھا۔

ملائیشیا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر آمنہ بلوچ کا کہنا تھا کہ معاملہ قانونی ہے اور پی آئی اے کے قانونی ماہرین ہی دیکھیں گے،ہائی کمیشن، پی آئی اے اور قانونی ماہرین کوہر ممکن تعاون فراہم کرےگا۔

پی آئی اے کی کوالمپور پرواز کے مسافروں کی متبادل ذریعے سے واپسی ہو گئی ، 118 مسافر براستہ دبئی پرواز نمبر ای کے 614 کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے۔

قومی ایئر لائنز کے ترجمان نے بتایا کہ یہ پرواز پاکستانی وقت کے مطابق دبئی سے شام 7 بج کر 36 منٹ پر روانہ ہوئی تھی،ایک پرواز کیو آر 632 دوحہ سے شام 8 بج کر 20 منٹ پر روانہ ہوئی ہے جو 54 مسافروں کو لے کر رات 1 بج کر 40 منٹ پر اسلام اباد پہنچے گی۔

  • مذید تحقیق ہو تو کسی پاکستانی یا نونی کی ہی انوسٹمنٹ نکلے گی ۔ کاروباریوں کی حکومت تھی ۔ ذاتی مفاد ہی قومی مفاد ہے ان سیاسی کاروباریوں کیلئےْ


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >