سات سالہ مونیکا کی زیادتی اور قتل سے متعلق والد کے انکشافات

سات سالہ مونیکا کی زیادتی اور قتل سے متعلق والد کے انکشافات

سندھ کے شہر خیرپور میں 7 سالہ مونیکا لاڑک کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا، اس کیس کے حوالے سے بچی کے والد نے دل دہلادینے والے انکشافات کردیئے، مونیکا لاڑک قتل کیس کے سلسلے میں ہفتے کو مونیکا کے والد نے رکن قومی اسمبلی جاوید شاہ سے ملاقات کی ، جس میں مونیکا کے والد نے رکن قومی اسمبلی کو مشکوک افراد کی تفصیل پیش کی۔

مونیکا کے والد نے بتایا کہ مونیکا کے گلے میں لیموں کے درخت کی لکڑی لگی ہوئی تھی اور لیموں کا درخت صرف حویلی میں لگا ہوا ہے، علاقے میں اور کہیں نہیں،وقوعے کے وقت ہم نے کھوجی کتے منگوانے کے لیے کہا تو حویلی کے پیر عطا اللہ شاہ نے ہمیں روک دیا۔

مونیکا کی پھوپھی نے بھی پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکوک افراد کی نشان دہی بھی کی، پھوپھی مونیکا کا کہنا تھا کہ پیروں سے تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی ہے، حویلی والوں کو سب معلوم ہے، پولیس ان کو شامل تفتیش کرے۔

گزشتہ ہفتے 7 سال کی ایک بچی مونیکا لاڑک کو خیرپور کے پیر جو گوٹھ کے علاقے میں اغوا کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، گھر سے لاپتا ہونے کے دو روز بعد اس کی لاش گوٹھ حادل شاہ میں کھیت سے ملی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، بچی کا تعلق غریب گھرانے سے ہے اور وہ گھروں میں جھاڑو پوچھے کا کام کرتی تھی اور کام سے واپس آتے ہوئے اغوا ہوئی تھی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے 13 جنوری کو مونیکا زیادتی و قتل کیس پر از خود نوٹس لیا، 15 جنوری کو کیس کی سماعت پر ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور عدالت میں پیش ہوئے، عدالت میں پیش پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے میں 124 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، کئی مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے۔

لاش ملنے کے بعد ڈی آئی جی سکھر فدا حسين مستوئی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اور اہل خانہ سے تعزیت کی، انھوں نے کہا کہ شک کی بنیاد پر مزید 4 افراد کوگرفتار کیا گیا ہے، اور ڈی این اے بھی لے لیاگیا ہے، ایک گرفتار ملزم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اس کے بیوی بچوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس لیے اس نے گرفتاری دی، میں نے بچی سے زیادتی یا قتل نہیں کیا، ڈی این اے کرایا جائے۔

ایس ایچ او پیر جو گوٹھ نے کہا تھا کہ بچی کے ورثا نا معلوم افراد پر مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ بچی پر لکڑیوں سے بھی وار کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی امیر سعود کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم سے سیمپل اور فنگر پرنٹس لے لیے گئے ہیں، علاقے سے کچھ مشکوک افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مکمل تفتیش کے بعد جلد حقائق تک پہنچ جائیں گے۔

صوبائی امتیاز شیخ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جنسی استحصال کے کیسز میں سختی سے کارروائی ہوتی ہے، یہ ہمارے معاشرے کا زوال ہے، ایسے واقعے پوری سوسائٹی میں ہو رہے ہیں، پولیس خیرپور کی 7 سال کی بچی کے والدین سے رابطے میں ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >