بڈنگ کے باوجود عالمی کمپنیوں کا پاکستان کو ایل این جی سپلائی کرنے سے انکار

بڈنگ کے باوجود عالمی کمپنیوں کا پاکستان کو ایل این جی سپلائی کرنے سے انکار

بین الاقوامی کمپنیوں نے فروری کیلئے بڈنگ کے باوجود ایل این جی سپلائی کرنے سے انکار کردیا ہے جس سے ملک میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا خطر ہ پیدا ہوگیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگلے مہینے کیلئے حکومت نے جن بین الاقوامی سپلائرز سے ایل این جی کی فراہمی سے متعلق بات کی تھی ان کمپنیوں نے بڈنگ کے باوجود گیس سپلائی سے انکار کردیا ہے جس سے ملک میں گیس کے شدید بحران کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے پہلے سپاٹ کارگو کیلئے برطانیہ کی ایک کمپنی سوکار ٹریڈنگ یوکے لمیٹڈ کو ٹھیکہ دیا تھا جبکہ دوسرے سپاٹ کارگو کیلئے بولی میں کم قیمت پر ایل این جی فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی کو ٹھیکا دیا جس نے اب بولی میں لگائی گئی قیمت پر ایل این جی سپلائی کرنے سے انکا ر کردیا ہے۔

ایل این جی مارکیٹ سے آنے والے خبروں کے مطابق بین الاقومی مارکیٹ میں ایل این جی گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور شمالی ایشیائی ممالک میں گیس کی طلب میں اضافے کی وجہ سے بین الاقومی سطح پر رسد متاثر ہوئی ہے ، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بہت سی عالمی کمپنیوں نے اپنی بولی میں بتائی گئی قیمتوں سے انحراف کیا اور چند مقامات پر اپنے معاہدوں سے ہی پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

پی ایل ایل نے ملک میں گیس بحران سے بچنے کیلئے کم بولی لگانے والی مزید 2 کمپنیوں سے رابطہ کیا انہوں نے بھی بولی میں دعویٰ کی گئی قیمت پر ایل این جی دینے سے انکار کردیا، انکار کرنے والے سپلائرز میں حکومت کی ماتحت کمپنیاں اور ایل این جی کی بین الاقوامی مارکیٹ کے تاجر بھی شامل ہیں۔

بحران سے بچنے کیلئے پی ایل ایل موجودہ قیمتوں پر عالمی مارکیٹ سے ایل این جی منگوانے کیلئے کوششیں کررہی ہے، اس کے علاوہ فروری میں  گیس کی قلت سے بچنے کیلئے حکومت کی متبادل ذرائع سے گیس منگوانے کیلئے بھی کوششیں  جاری ہیں۔

  • اس بیوقوف حکومت کو فورا دو کام کرنے چاہیئں تاکہ اس کی کچھ ساکھ رہ جائے۔ سب سے پہلے تو ندیم بابر کی چھٹی کرائی جائے اور دوسرا ان کمپنیوں کے خلاف لندن میں کیس کیا جائے تو بِڈنگ کے باوجود گیس سپلائی نہی کر رہیں۔

    • آپ نے بھی ان کو بے وقوف مان لیا شکر ہے امید ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اب تبدیلی کے کھوکھلے نعرے سے باہر آکر سوچنے لگیں گے
      میرے خیال میں شاہد خاقان کو منت ترلہ کرکے واپس لے آئیں کم از کم عوام تو نہ پسیں

  • گزشتہ 35 سالوں سے پاکستانی اداروں سمیت انٹرنیشنل کمپنیوں میں بھی نواج شریف کے سیف الرحمان بیٹھے ہوئے ہیں اور کمیشن کے بغیر کام نہیں کرتے ہیں آگر یہ خبر سچ ھے تو حکومت کو کم ازکم پاکستان میں جو حرام خور اس میں ملوث ہوں ان کو فورآ نوکریوں سے فارغ التحصیل کریں اور سزائیں دیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >