توہین مذہب کا الزام لگاکر استاد کو قتل کرنے والے ملزم کو سزا سنا دی گئی

توہین مذہب کا الزام لگاکر استاد کو قتل کرنے والے ملزم کو 2 بار سزائے موت

بہاولپور میں توہین مذہب کا الزام لگا کر کالج پروفیسر کو قتل کرنے والے طالب علم خطیب حسین کو 2 بار پھانسی اور سات لاکھ روپے کی سزا سنادی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2019 میں بہاولپور کے گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) کے انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر خالد حمید کو ان ہی کے ایک طالب علم خطیب حسین نے مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگاکر قتل کردیا تھا۔

واقعے پر قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت کےجج مہر ناصر حسین نے گزشتہ روز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم خطیب حسین کو 2 بار سزائے موت اور مجموعی طور پر 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے، ملزم کو اس جرم پر اکسانے اور قتل کا مشورہ دینے والے تحریک لبیک پاکستان کے مقامی رہنما ظفر حسین کو بھی 14 برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بہاولپور کے ایس ای کالج میں 20 مارچ 2019 کی صبح پروفیسر خالد حمید کو خطیب حسین نے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا تھا، پولیس نے اطلاع ملتے ہی موقع واردات پر پہنچ کر ملزم کو آلہ قتل کے ہمراہ گرفتار بھی کرلیا تھا۔

ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پروفیسر مذہب کے خلاف گفتگو کیا کرتے تھے جس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی تھی، پولیس کے مطابق ملزم کے تعلقات تحریک لبیک پاکستان کے لیہ کے مقامی رہنما ظفر حسین سے تھے جس نے خطیب حسین کو اپنے پروفیسر کو قتل کرنے کی تجویز دی اور اسے باقاعدہ طور پر اس جرم پر قائل بھی کیا۔

پولیس نے دونوں ملزمان کو حراست میں لیا اور تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں جمع کروادیا تھا، عدالتی کارروائی کے بعد گزشتہ روز اس کیس کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

  • خالد حمید ایک بہت ہی نفیس شخص تھا۔ میری ان سے بہت پرانی شناسائی تو نہ تھی لیکن جتنا عرصہ بھی انہیں جانا انہیں بندہ پرور اور انتہائی نفیس اور ملنسار شخصیت پایا۔ ان کی شہادت سے ایک ہفتہ قبل ہی ہم دونوں اکٹھے جمعہ پڑھنے گئے تھے۔ اس سے اگلے دن میں یورپ آگیا اور دو چار روز بعد یہ واقع پیش آگیا۔ خالد ہم سب جیسا ایک عام سا شخص تھا جو کسی بھی صورت توہین مذہب کا تصور بھی نہی کر سکتا تھا۔ اللہ اسے جنت نصیب کرے۔ آمین ثم آمین

  • عمران خان نے کھادو لنگے کو استعمال کرکے نوازشریف کو اتارا تھا یہ دونوں اسی کے شاگرد تھے، چکوال میں بینک مینیجر کو قتل کرنے والا گارڈ بھی اسی کھادو لنگے کا شاگرد تھا بلکہ مینیجر خود بھی کھادو لنگے کے کلپ چلاتا تھا شائد اسی وجہ سے اسے قدرت نے سزا بھی دی کہ پڑھے لکھے کیلئے معافی نہیں جاہل تو جاہل ہوتا ہے
    امید ہے اسے جلد پھانسی دی جاے گی جس نے استاد کی یہ بے حرمتی کی اور اسے قتل کرکے مسکراتے ہوے کہا کہ بھونکتا تھا

  • اس ملک کی عدالتوں میں کبھی کسی گستاخ کو بھی سزا ملی ہے ؟
    انگریز کا قانون انگریز کے نظریہ کو ہی سپورٹ کریگا
    جب جب گستاخ گستاخیاں کرئینگے تب تب غازی پئیدا ہوتے رہنگے
    تم یہ سمجھتے ہو اسکی پھانسی سے یہ سلسلہ رک جاے گا ؟
    کبھی بھی نہیں

  • خادم حسین لنگڑا خود تو اس دنیا سے دفع ہوگیاہے لیکن جاہلوں کی ایک فوج تیار کر گیا ہے۔یہ نام نہاد مذہبی ٹولہ جانور سمیت مدرسے کے چھوٹے بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >