رشوت کی پیشکش کرنے والے انجم ڈار سے متعلق سربراہ براڈ شیٹ کے مزید انکشافات

رشوت کی پیشکش کرنے والے انجم ڈار سے متعلق سربراہ براڈ شیٹ کے مزید انکشافات

ایسیٹ ریکوری فرم براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موساوی نے کہا کہ انہیں انجم ڈار نامی شخص نے رشوت کی پیش کش کی تھی اور ان کے پاس اس چیز کا گواہ بھی موجود ہے۔ انجم ڈرا نے ملاقات کے دوران نواز شریف سے ٹیلی فون پر ہدایات لیں۔

کاوے موساوی نے کہا کہ نواز شریف سے انجم ڈار کی شناخت کنفرم کرنا میری ذمہ داری میں شامل نہیں تھا۔ انجم ڈار نے نواز شریف کی رہائش گاہ پر ان کے ساتھ بنوائی گئی تصاویر دکھائیں مگر میری ان ساری باتوں کو عدالت میں ثابت ہونے سے پہلے الزام ہی کہا جا سکتا ہے۔

براڈ شیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ ان کی انجم ڈار کے ساتھ 2 ملاقاتیں ہوئیں جس میں سے دوسری ملاقات کے دوران اس نے مجھے رشوت کی آفر کی مگر پہلی ملاقات کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا گو کہ یہ سب فی الحال الزامات ہی ہیں مگر جب عدالت کا فیصلہ آ گیا تو پھر مجھے ان پر الزامات لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

کاوے موساوی نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو حکومت سے باہر کیا، عدالت نے فیصلے سے پہلے کئی دستاویز کی جانچ پڑتال کی اور فیصلہ دیا مگر میں نے ایسا کبھی فیصلہ نہیں دیکھا جس میں حکومت کو سازش کا حصہ قرار دیا گیا ہو۔ پاکستانی حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہیے اور پاکستانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس فیصلے کو پڑھیں۔

انہوں نے برطانوی عدلیہ کی تعریف میں کہا کہ یہاں کی عدالتیں غیر جانبدار ہیں جنہوں نے کہا کہ نیب نے معاہدہ توڑا ہےاور جان بوجھ کر معاہدہ توڑا گیا جو کہ براڈ شیٹ کے خلاف سازش ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ کام غیر قانونی ہوا ہے۔

موساوی نے کہا کہ نیب نے انہی لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا جن کو کرپشن ڈھونڈے کے لیے لایا گیا تھا۔ انہوں نے نئی تحقیقات کے لیے ایک اور کمپنی بنانے کا بھی اعلان کر دیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >