سرحد پار تجارت آسان بنانے کیلئے بارڈر انڈیکس ٹریڈنگ میں پاکستان کی بڑی کامیابی

سرحد پار تجارت آسان بنانے کیلئے ایف بی آر کے اقدامات، پاکستان عالمی رینکنگ میں 31 درجے اوپر آ گیا

سرحد پار تجارت (درآمدات و برآمدات) کو مزید آسان بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تین شعبوں پر خصوصی توجہ سے ویب بیسڈ ون کسٹمز الیکٹرانک سسٹم بنا دیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے مختلف اداروں کوضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مطلوبہ دستاویز کی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پاکستان کسٹمز کی استعداد کار بہتر بنائی گئی ہے تاکہ کسٹمز کا عملہ بلا روک ٹوک مکمل فعال طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکے۔ ان تمام اقدامات کے بعد پاکستان تجارتی انڈیکس کی رینکنگ میں ان ممالک کی فہرست میں 31 درجے بہتری کے ساتھ 142 ویں نمبر سے 111ویں نمبر پر آ گیا ہے جن ممالک میں تجارت کرنا آسان ہے۔

بیرون ملک تجارت کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں بہتری کے ساتھ پاکستان کا عالمی بینک بھی 28 درجے بہتری کے ساتھ 136ویں نمبر سے 108ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ برآمدات کے لیے ضروری کاغذاتی کارروائی کادورانیہ 55 گھنٹے سے کم کر کے24 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ قانونی تقاضوں کیلئے بھی وقت کو کم کر کے75 گھنٹے سے 24 گھنٹے پر لایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ درآمدات کیلئے کاغذی کارروائی کیلئے پہلے سے مختص143 گھنٹے کا وقت کم کر کے 24 گھنٹے کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ممالک سے درآمدات کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کا وقت بھی 24 گھنٹے پر لایا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کسٹمز کے پہلے سے زیادہ فعال ہونے کی بدولت ممکن ہو سکے ہیں۔

ان تمام اقدامات کے بعد پاکستان گزشتہ سال کی نسبت کاروبار کو آسان بنانے والے ان10ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے کاروبار میں آسانی لانے کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کیے۔ تجارت کے لیے کی جانے والی اصلاحات سے پاکستان عالمی فہرست میں6ویں اور جنوبی ایشیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

ایف بی آر کے پاکستان سنگل ونڈو پروگرام کے تحت ملک کے کم ازکم 46 محکموں اور اداروں کو ایک جگہ پر ضم کیا گیا ہے تاکہ درآمدات اور برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے تجارت کو پہلے سے آسان اور جدید بنایا جا سکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >