ریکوڈک کے 6ارب ڈالر کے جرمانے کی ذمہ دار سپریم کورٹ ہے،شاہد خاقان عباسی

  

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ کے دور حکومت میں ریکوڈک کے چھ ارب ڈالر کے بھاری جرمانے کا ذمہ سپریم کورٹ کو ٹھہرادیا ہے، انہوں نے آج نیوز کی اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں شرکت کی اور ریکوڈک کے معاملے پر گفتگو کی۔

عاصمہ شیرازی نے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا کہ کل ہم نے خبروں میں پڑھا کہ آپ ریکوڈک معاملےپر نیب کے ڈر سے پیچھے ہٹے، جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نہیں یہ بات نہیں۔

عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ میں ہے، بی بی سی کو کہا کہ ہم کرسکتے تھے بیرسٹر ظفر اللہ کو، وزیراعظم عمران خان تیار تھے، بہت کم پیسوں میں اس معاہدے کو طے کررہے تھے،لیکن اس کے بعد نیب کے ڈر سے آپ نے نہیں کیا؟ آج سر چھ ارب ڈالر پاکستان نے دینا ہے؟خالی پی ٹی آئی کا تو اس میں کوئی حصہ نہیں؟َ

جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بات میں نہیں کروں گا،یہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی ناکامی ہے،جس نے معاہدہ پڑھا نہیں،میں نے وزیر تھا میں کہا میں اس کو سیٹل کرسکتا ہوں،مجھے سپریم کورٹ سے آرڈر لادیں،سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کنٹریکٹ اب موجود ہی نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نے بتایا کہ میں بطور وزیراگر سیٹلمنٹ کرتا ہوں تو کس چیز کی سیٹلمنٹ کروں،کل مجھ سے نیب پوچھے گی، ہرآدمی پوچھے گا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہے،کہ طے ہوچکا ہے ریکوڈک کا کنٹریکٹ موجود ہی نہیں ہے۔

میزبان نے شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے پاس دوبارہ جاتے اور بتاتے کہ اس سے پاکستان کو نقصان ہوگا،اس لئے اس معاملے کو دیکھا جائے؟

شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ اس بارے میں بات نہیں کرسکوں گا میں نے حلف لیا ہوا ہے،بحیثیت وزیراعظم بھی اس بارے میں بات نہیں کرسکتا، جو میں بتاسکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم ریکوڈک کا کیس ہارے کیوں؟ ریکوڈک اور براڈ شیٹ کا معاملہ ایک جیسا ہے،ریکوڈک معاملے کے عینی شاہد پاکستان کے بیت بڑے سائنسدان تھے ، میں بھی اس کمرے میں موجود تھا جہاں وہ بیٹھے تھے۔

تقریباً ستائیس سال قبل بلوچستان حکومت نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے پہاڑی علاقے میں سونے، تانبے اور اسکے موجود معدنی ذخائر سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا تھا،یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے کئے جانے والے معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔

امریکی کمپنی نے بعد میں ایک آسٹریلوی رجسٹرڈ ٹیتھیان کوپر کمپنی کے ساتھ حصہ داری معاہدہ کیا جس کے تحت بلوچستان حکومت نے اس کمپنی کو 9ستمبر 2002 کو سونے، کوپر اور دیگر موجود معدنی وسائل کی تلاش کا لائسنس جاری کیا اور اس کمپنی نے پاکستان میں برانچ کھول کر کام شروع کر دیا،بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی،حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔

کمپنی نے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کیا،اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا،سپریم کورٹ نے 2012 میں 1993 میں ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا، ٹیتھیان کمپنی نے 2012 میں منسوخ ہونے والے معاہدے پر عالمی سرمایہ کاری ٹریبونل سے رجوع کیا،2019میں ٹریبونل نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر جرمانہ،2 ارب ڈالر سود اور اخراجات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

پاکستان کی نظرثانی درخواست پر فروری 2020 میں ٹربیونل نے عبوری حکم امتناع جاری کیا،اپریل 2020 میں مستقل حکم امتناع کی درخواست پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی تھی،ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے 6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر آسٹریلوی اور چلی کی کمپنیوں کو جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع جاری کر دیا۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی بینک ٹریبونل کا ریکوڈیک کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ بڑا ریلیف ہے، ٹریبونل نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے سے روک دیا تھا۔

ریکوڈک چاغی میں واقع ہے، جس کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے، وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیں،ریکوڈک کے قریب ہی سیندک ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔

  • It’s not that simple, court decided upon the fact that the deal made was not beneficial for Pakistan’s interest. But they only overlooked the fact that the companies could actually take the case to international courts and win the case regardless of how damaging the terms of the deal for the country were.

    Same is the case with LNG, IPP and broadsheet case with ill thought deals which damaged Pakistan.

  • Shahid Khaqan is boo bakra. He never admitted his mistake and his party mistakes. His job is only to blame IK, aur institutions either army, supream court, NAB, FIA etc.. even post office or lowest institution of Pakistan.
    So I stopped listing him.

  • اس کی اور اس کے چور لیڈر کی پیدائش کا ذمدار بھی کوئی اور ہے
    یہ تو صرف نہاریاں کھانے اور امریکہ میں پتلونیں اتروانے کے لیے
    بیٹھے رہے ہیں
    سب قصور کسی نہ کسی اور کا ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >