صحافیوں کی اشتہاری ملزمان کی تقاریر پر پابندی کے خلاف درخواست ،عدالت نے نمٹا دی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں کی نواز شریف سمیت اشتہاری ملزموں کی تقاریر پر پابندی کےخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ جسے مدعی صحافیوں کی جانب سے واپس لے لیا گیا جس کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس درخواست میں بڑے بڑے نام ہیں لیکن اس سے تاثر صحیح نہیں گیا، چونکہ فریقین درخواست واپس لے رہے ہیں اس لیے عدالت بھی اسے خارج کر رہی ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ اس درخواست کو دائر کرنے والے صحافی اور اینکر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ کسی کے ایجنٹ کے طور پر درخواست دائر کر رہے ہیں اس لیے درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اب نئی بنیادوں پر دوبارہ درخواست دائر کی جائے گی۔

یاد رہے کہ نومبر2020 میں نواز شریف کی ٹی وی پر تقاریر نشر کیے جانے پر پیمرا کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی جس کے خلاف ہیومن رائٹس کمیشن، پی ایف یو جے، صحافیوں اور چند اینکرز نے عدالت میں درخواست دائر کی جسے وکیل سلمان اکرم راجہ کے توسط سے دائر کر کے سیکرٹری اطلاعات اور پیمرا کو فریق بنایا گیا تھا۔

 "نجم سیٹھی، نسیم زہرہ، ابصار عالم، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی ، ضیاء الدین نے نوازشریف کی تقاریر پر لگی پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی

اس سے قبل یکم اکتوبر 2020 کو پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو مفرور اور اشتہاری قرار دیئے جانے والے افراد کے انٹرویوز، تقاریر اور عوامی اجتماعات سے خطاب نشر کرنے سے روک دیا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >