حمزہ شہباز کی درخواستِ ضمانت خارج

سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔۔شہباز کی جانب سے درخواستِ ضمانت واپس لینے پر درخواست خارج کردی گئی۔

حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا، جب ضمانت کیلئے رجوع کیا تو حمزہ کےخلاف ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا، الزام 7 ارب کا تھا، ریفرنس 53 کروڑ روپے کا دائر ہوا۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیس میرٹ پر لڑنا چاہتے ہیں یا ہارڈ شپ کی بنیاد پر؟

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ہم ہارڈ شپ پر ضمانت مانگ رہے ہیں۔

جس پر جسٹس طارق مسعود نے سوال کیا کہ ہائی کورٹ میں ہارڈ شپ کا ذکر نہیں کیا تو سپریم کورٹ کیسے یہ مسئلہ دیکھ سکتی ہے؟

حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حالات اور تھے، گرفتاری کو ایک سال سے کم عرصہ ہوا تھا، ہارڈ شپ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ اس وقت ہارڈ شپ کا گراؤنڈ نہیں بنتا تھا۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال کیا کہ آپ نے یہ نکتہ ہائیکورٹ میں نہیں اٹھایا ؟

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ احتساب عدالت کی رپورٹ کے بعد آپ کیلئے مناسب یہی ہے کہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

حمزہ شہباز کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے پر درخواست خارج کردی گئی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>