سندھ :جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پنشن فراڈ اسکینڈل 10 ارب تک پہنچ گیا

حیدرآباد، پرائیویٹ لوگوں کو پنشن دینے کے معاملے میں 10 ارب کی بے ضابطگیاں سامنے آ گئیں

ٹریژری آفس حیدرآباد میں پنشن میں گھپلے کے معاملے پر نیب کراچی نے تحقیقات کیں تو معاملہ 2ارب سے بڑھ کر10 ارب تک جا پہنچا۔ جس کے بعد قومی احتساب بیورو کراچی نے گزشتہ 5 سال کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب کو ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ 2 ارب روپے کے گھپلوں کا تھا مگر اب تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جعلی بلز کی مدد سے پنشن کے پیسوں میں 10 ارب روپے کے قریب گھپلے کیے گئے ہیں۔

اس میں ملوث ٹریژری آفس حیدر آباد کے سابق آڈیٹر عبدالحفیظ، عبدالحق سولنگی، سب اکاؤنٹنٹ اسلم ابڑو، سابق اکاؤنٹنٹ اشرف جانوری، سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹنٹ نوید باجاری، سابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹنٹ الطاف منگی، سابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹنٹ اللہ بچایو جتوئی، نذیر بھٹو، ثمینہ شیخ اور اعجاز علی ڈاؤچ سمیت 33 افسران کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔

نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹریژری آفس حیدر آباد کے ان افسران نے ہزاروں کی تعداد میں پرائیویٹ افراد کو محکمہ زراعت، تعلیم، خزانہ، صحت اور پولیس کے ریٹائرڈ ملازمین ظاہر کر کے ان کے نام پر پنشن کے پیسے نکلوائے اور اس کے لیے جعلی بلز بنا کر بھجوائے گئے۔

نیب نے تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلایا ہے کہ جن افراد کو پنشن کی رقم دی گئی ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق شیخ، دھاریجو، انڑ اور سید خاندان سے ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >