حکومت کا بڑا اقدام ، متوفی کے ورثا کو جائیداد ملنا آسان،منتقلی 15 روز میں ممکن

وفاقی حکومت کا ایک اور اہم اقدام سامنے آگیا، اب وفات پانے جانے والوں کے ورثا کی جائیدادیں منتقل کروانے کیلئے سالوں کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، وفاقی حکومت نے وفات پا جانے والے کسی بھی پاکستانی شہری کے ورثا کو جائیداد کی قانونی طریقے سے منتقلی کے لئے آسان ترین نظام متعارف کروادیا،جس کے تحت متوفی کے قانونی ورثا کو جائیداد کی منتقلی اب صرف پندرہ روز میں ممکن ہوسکے گی۔

وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اور وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کے حوالے سے بتایا کہ لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اور وراثتی سرٹیفکیٹ قانون سب سے اہم ہے، وراثتی سرٹیفکیٹ اب سات سالوں کی بجائے 15 روز میں جاری ہو گا، وزارت قانون و انصاف نے نادرا کے تعاون سے سویٹ مرکز قائم کیا،اس نظام کا مقصد عوام دوست قوانین میں اصلاحات اور فوری انصاف کی فراہمی ہے۔

وزارت قانون دن رات عوامی مفاد کیلئے قانون سازی کرنے کیلئے کوشاں ہے اور ہماری کارکردگی کی شرح 99.9 فیصد ہے،اعلیٰ عدلیہ کے ججز نے قانونی اصلاحات کیلئے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ وزیراعظم کے وژن کے مطابق قانون سازی کو سادہ اور عام فہم بنا رہے ہیں۔

لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اور وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے نادرا کی جانب سے وراثتی سرٹیفکیٹ کا 15 دن میں اجراء خوش آئند قرار دیا، کہا حکومت عام لوگوں کیلئے آسانیاں پید اکرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور اصلاحات لا رہی ہے تاکہ عام شہری مستفید ہوں،

ہمارے ملک میں قبضہ گروپ ہیں جو قانون شکنی کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں اور متاثرہ افراد پیسے دے کر قبضہ چھڑاتے ہیں۔ جب عدالتی نظام بہتر کام کرے گا تو جرائم میں کمی آئے گی،جبکہ خواتین سے متعلق وراثتی قوانین میں بہتری لائی جائے گی۔

وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق قانون سازی کا سب سے اہم پہلو ”لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس ایکٹ 2020“ تھا جسے پارلیمان کی منظوری کے بعد فروری 2020ء میں نافذ کر دیا گیا تھا،ایکٹ میں وفات پا جانے والے شہری کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد کی قانونی ورثا کو منتقلی جیسے پیچیدہ مسئلے کو آسان بنایا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق جانشینی سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے اشتراک سے سہولت یونٹ قائم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ۔ نادرا ملکی تاریخ میں پہلی باربائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن کا اجرا کرے گا، نادرا کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق سے جائیداد کی منتقلی کے دوران کسی بھی قسم کے دھوکے یا فراڈ کا امکان مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پرانے نظام کے تحت قانونی ورثا کو دستاویزات کے حصول کے لئے عدالتوں کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہونا پڑتا تھا لیکن نئے نظام میں اگر قانونی وارث کسی وجہ سے خود حاضر نہیں ہو سکتا یا بیرون ملک مقیم ہے تو پھر بھی اسے متعلقہ دستاویزات جاری کی جا سکیں گی، اس عمل سے جہاں وقت کے ضیاع اور پیسوں کی بچت ہو سکے گی وہاں عدالتی نظام پر پڑنے والے کام کے اضافی بوجھ میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہو سکے گی۔

  • Aoa sir ma na ajj sa 3 saal pahla kala shah kaku ka pass capital city ma 5 marla ke file le the jis ka last installment December 2020 ma the jo balloting honi the wo abhe tk nhe hoe Rabta karo to kahta ha March ma ho ge .ma aik oversees ma kam karta ha ab yaha sa ja ker bat karni para ge mjha koe bta Sakta ha ka iss ka koe or hall kia ha


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >