افغان مہاجرین کے 61سے زائد بچوں کو اسکول بھیجنے کا منصوبہ تیار

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے، اس کام کے لیے یو این ایچ سی آر پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود54 مہاجرین کی خیمہ بستیوں میں قائم 137 اسکولوں میں ان بچوں کو داخل کرائے گا۔

امریکی اخبار وائس آف امریکہ کے مطابق ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ایک ضروری اور مسلسل عمل ہے جس کے لیے کوشش ہے کہ اس سال اضافہ ہو، یہ کام مشکل ہے مگر اس مقصد کے لیے ان افغان مہاجرین کو قائل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں۔

یاد رہے کہ افغان جنگ کے دوران پاکستان ہجرت کرنے والے افغان مہاجرین کی زیادہ تر آبادی مہاجرین کے لیے بنائے گئے کیمپوں میں تھی مگر ان میں سے 32 فیصد آباد ان خیمہ بستوں میں رہ گئی ہے جبکہ باقی 68 فیصد افغان مہاجرین شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔

افغان مہاجرین کے بچوں کو تعلیم دینے کے منصوبے پر زیادہ تر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ اہم اور وقت کی اہم ضرورت تھا۔ کیونکہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی تعداد کافی زیادہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 14 لاکھ ہے جبکہ پاکستانی حکومت کے مطابق ملک بھر میں رہائش پذیر افغان باشندوں کی تعداد 24 لاکھ کے ہے۔

یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کے 5 لاکھ بچے ہیں جن میں سے صرف 20 فیصد اسکول جاتے ہیں۔ افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے146 اسکولوں میں سے 103 خیبرپختونخوا،35 بلوچستان اور 8 پنجاب میں ہیں۔ ان 146 اسکولوں میں صرف35 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >