سابق چیئرمین نیب سید امجد نے براڈ شیٹ سے متعلق برطانوی عدالت میں کیا بیان دیا؟

سابق چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل (ر) سید امجد جن سے متعلق براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موساوی نے کہا تھا کہ اگر نیب نے حقیقی احتساب کیا تو وہ جنرل امجد کے دور میں ہوا تھا۔ اب ان کا براڈ شیٹ کیس میں برطانوی عدالت کو ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا ہے۔

برطانوی عدالت کو دیئے گئے اپنے بیان میں سابق چیئرمین نیب نے کہا کہ براڈ شیٹ نے پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ واپس لانے کے لیے کچھ نہیں کیا، براڈشیٹ نیب کی دی گئی معلومات کو ہی ہدف کے خلاف استعمال کرتا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ متعلقہ وزارتوں سے منظوری کے بغیر کیا گیا تھا، سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب فاروق آدم خان کا بیٹا براڈشیٹ کے پارٹنر کے لیے کام کر رہا تھا، براڈشیٹ نیب کو کوئی مفید معلومات دے سکا نہ ہی چوری کیا گیا پاکستانی پیسہ واپس لانے میں مدد کر سکا۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید امجد نے بتایا کہ اپریل 2000 میں امریکی ریاست کولوراڈو میں براڈشیٹ کے دفتر کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے دوران پاکستانی وفد کو جعلی معلومات کی بنیاد پر پریزینٹیشن دی گئی۔

سابق چیئرمین نیب کے مطابق براڈشیٹ کے دفتر کے دورے کے بعد ان سے معاہدہ کیا گیا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>