خواجہ آصف کے خلاف نیب تحقیقات میں مزید انکشافات

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف نیب تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نجی بینک کے چپڑاسی نے خواجہ آصف کے بینک اکاؤنٹ میں 28 ملین سے زائد جبکہ مزید 2 لوگوں نے مجموعی طور پر 50 ملین کی رقم جمع کروائی ۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیسز میں نیب کی حراست میں ہیں،ان کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

نیب نے خواجہ آصف کے کیسز میں 4 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں جس میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہو ر میں ایک نجی بینک کے چپڑاسی نے خواجہ آصف کے اکاؤنٹ میں 28 ملین کی رقم جمع کروائی، چپڑاسی کا کہنا تھا کہ اس نے بینک کے سینئر افسر کے کہنے میں پر یہ رقم جمع کروائی۔

نیب کو ملنے والی دستاویزات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ رانا عبدالوحید نامی مسلم لیگ کے 30 سالہ پرانے سیاسی ورکر نے خواجہ آصف کے اکاؤنٹ میں 30 ملین جمع کروائے، انہوں نے نیب کو جواب دیا کہ انہوں نے یہ رقم خواجہ آصف کو دی ہوئی تھی۔

نیب دستاویزات کے مطابق خواجہ آصف کے بھائی کے بیٹے خواجہ سلطان نے ان کے اکاؤنٹ میں 20 ملین کی رقم جمع کروائی، خواجہ سلطان نے نیب کے استفسار پر جواب دیا کہ جو رقم جمع کروائی وہ خواجہ آصف کی ہی تھی۔

ایک اور شخص جس کا نام نیب دستاویزات میں سرمد اعجاز بتایا جاتا ہے نے خواجہ آصف کے اکاؤنٹ سے 5 ملین روپے نکال کر ان کو ہی دے دیئے، خواجہ آصف اس ساری رقم سے متعلق نیب کے سوالوں کے جواب تاحال نہیں دے پائے ہیں کہ یہ ساری رقم کہاں سے آئی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >