کراچی:اسکولوں کی تعمیر ومرمت کے ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

کراچی:اسکولوں کی تعمیر ومرمت کے ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

کراچی شہر کے 6 اضلاع میں ضلع وسطی، شرقی ملیر، جنوبی، کورنگی اور ضلع غربی کی حدود میں موجود سرکاری اسکولوں وکالجوں کی تعمیرومرمت کے لیے محکمہ ایجوکیشن ورکس کی جانب سے ایک ارب روپے سے زائد لاگت کے ٹینڈرز طلب کئے گئے تھے، جن کے ٹھیکوں کی مبینہ بھاری کمیشن وصولی کے ذریعے بندر بانٹ کی جارہی ہے۔

نجی خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کے نام پر بڑے پیمانے پر ٹھیکوں کی خریدو فروخت کا بازار گرم ہے اور اربوں روپے کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کی جارہی ہے۔ محکمہ ایجوکیشن ورکس کے افسران صوبائی وزیر تعلیم کا کھلم کھلا نام استعمال کرکے چہیتے ٹھیکیداروں کو ٹھیکوں سے نوازنے میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ کے ایکسئنز نے مبینہ نمائشی ٹینڈرز کرلئے ہیں اور اب مذکورہ کاموں کے لئے من پسند کنٹریکٹرز سے معاملات طے کئے جارہے ہیں۔

مذکورہ 6 اضلاع کے افسران میں سے صرف ایجوکیشن ورکس ضلع وسطی کے ایکسئن جاوید چندریگر نے سندھ پبلک پروکیورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر بڈ ایلویشن رپورٹ جاری کی ہے جس میں بھی سنگین بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔

ایجوکیشن ورکس ضلع وسطی کے ایکسئن جاوید چندریگر نے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے غیر رجسٹرڈ شدہ فرم کو 3 کروڑ 22 لاکھ روپے سے زائد لاگت کا ٹھیکہ ایوارڈ کرکے نہ صرف رولز کو پامال کیا ہے بلکہ سندھ پبلک پروکیورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

دوسری جانب نارتھ کراچی کے ایک اسکول کی تعمیر کا ٹھیکہ ایسی فرم کو دیا گیا ہے جو کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں کئی سال سے ری نیو ہی نہیں کی گئی۔ ٹھیکے داروں کا کہنا ہے کہ محکمہ ایجوکیشن ورکس کے افسران نے ٹھیکوں کی خریدو فروخت کا جمعہ بازار لگا کر سعید غنی کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >