مردہ لڑکی کو اسپتال میں چھوڑ جانے کے کیس میں مزید پیشرفت

لاہور کے نجی اسپتال میں لڑکی کی لاش چھوڑ کر جانے والا دوسرا ملزم بھی پولیس کی گرفت میں آگیا، انویسٹی گیشن پولیس نے متوفیہ کا اسقاط حمل کرنے والی خاتون کو بھی گرفتار کرلیا، پولیس نے مرکزی ملزم اسامہ کی نشاندہی پر ملزمان کو گرفتار کیا۔

لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن کے نجی اسپتال میں دو روز قبل لائی گئی مردہ لڑکی کے کیس کا دوسرا ملزم بھی گرفتارکرلیا گیا ہے، پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ملزم اسامہ کی نشاندہی پر اس کے ساتھی اویس کو گرفتار کیا۔

انویسٹی گیشن پولیس نے متوفیہ کا اسقاط حمل کرنے والی خاتون سمیت دو افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ جینڈر سی آئی اے کرائم سیل اور انوسٹی گیشن کے افسران پر مشتمل ٹیمیں ملزمان سے تفتیش کررہی ہیں،متوفیہ جی سی یونیورسٹی کی طالبہ تھی جسے ایک نوجوان چوبیس جنوری کو مردہ حالت میں نواب ٹاون کے نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا،واقعہ کے مناظر اسپتال میں لگے سی سی ٹی وی کے کیمرے میں محفوظ تھےمحفوظ تھے،جس کی مدد سے ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں خاتون بھی شامل ہیں، جس سے تفتیش جاری ہے۔ ملزم اویس کے مطابق وہ لڑکی کا کلاس فیلو تھا۔

اس سے قبل 25 جنوری کو کارروائی کے دوران پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، جس کی نشاندہی پر دیگر 2 ملوث ملزمان گرفتار ہوئے۔ پولیس کے مطابق لڑکی دوسرے ضلع میں جاں بحق ہوئی تھی۔ ملزمان کے بیانات پر تفتیش جاری ہے۔

مقتولہ کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی لاہور کی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھی، جہاں کورس مکمل کرنے کے بعد اسے ڈگری چاہیئے تھی، یونیورسٹی والوں کا کہنا تھا کہ پہلے فیس جمع کراؤ پھر کورس کی ڈگری ملے گی۔ بیٹی ہمارے گھر گجرات سے فیس کے پیسے لے کر لاہور ڈگری کیلئے یونی ورسٹی آئی تھی۔

والد نے مزید بتایا کہ پيسے جمع کرکے بیٹی کو دیئے، مزدور آدمی ہوں، پيسے اتنی آسانی سے جمع نہیں ہوتے، بیٹی لاہور آئی تو اس کے بعد اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔

لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی تھی، جب کہ رپورٹ ایک سے 2 روز میں سامنے آئے گی۔ واقعہ کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف پولیس کی مدعیت میں درج کی گی تھی،گزشتہ ہفتے بھی لاہور کے علاقے ٹاون شپ میں ہاسٹل سے لڑکی کی پھندا لگی لاش برآمد کی گئی تھی۔ واقعہ پر لڑکی کے ورثا نے کوئی کارروائی نہیں کرائی تھی۔

  • محبت کا فریب معصوم لڑکیوں کو پھانسنے کیلئے مختلف چالیں اور منصوبے پھر ہر موبائل فون کے اندر کیمرے ویڈیوز بنانے کے فنکشن کی وجہ سے ایسے واقعات بہت بڑھ چکے ہیں لڑکیوں کو ریپ اور بلیک میل کیا جاتا ہے اور مخلوط اداروں میں ایسا بہت کامن ہے
    ان کو پھانسیان دی جائیں تب یہ کام رکے گا

    • صاحب لڑکیاں بھی آجکل کے دور کی ہیں، یہ بھی اتنی سادی نہیں ہوتیں۔ یہ بیچاری ایک مزدور کی بیٹی جب جی سی جیسے ادارے میں پڑھنے گئی ہوگی، تو آس پاس مال و مطع کی نمائش نے اس کی آنکھیں بھی چندھیا دی ہونگی۔ اور اتنی پڑھی لکھی خاتون کو اسقط حمل کی دیگر دواوٗں کا معلوم نہیں؟ یہ بھی اکثر ایسے بہانے بنا کر مال دار اور عیّاش لڑکوں کو پھنساتی ہیں۔

      خیر، جو بھی ہوا، برا ہوا۔ کہنے کا مقصد کسی کو قصور وارٹھہرانا نہیں، کیونکہ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کا قصور کتنا ہے۔
      میں صرف عام تناظر میں بات کر رہا ہوں کہ تالی اکثر دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہمیشہ صنف نازک ہی معصوم اور مظلوم نہیں ہوتی۔ کچھ مریم نواز کی طرح اپنے ووٹروں کی ہی بلی چڑھانے سے بھی گریز نہیں کرتیں، نہ ہی قطریوں کے پاس تن تنہا جا کر خطوط کے مطالبے کرتی ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >