ماضی کی کن حکومتوں نے قومی اثاثے گروی رکھ کرسکوک بانڈز جاری کیے؟

سکوک بانڈز کے عوض قومی اثاثے گروی رکھنے کا معاملہ، ماضی میں کن حکومتوں نے یہ بانڈز جاری کیے؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پچھلے کچھ روز سے  یہ شور مچایا جارہا ہے کہ حکومت سکوک بانڈز کے لیے قومی اثاثے گروی رکھ رہی ہے، سکوک بانڈز کے عوض قومی اثاثے گروی رکھنے کے معاملے میں شدت دیکھی گئی جب یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت سکوک بانڈز کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایف نائن پارک کو گروی رکھوا رہی ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایف نائن پارک کو گروی رکھوانے کی تجویز پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر سکوک بانڈز کے عوض قومی اثاثہ گروی ہی رکھنا ہے تو وزیراعظم ہاؤس کو گروی رکھ دیا جائے۔

سکوک بانڈز کے لیے قومی اثاثے گروی رکھنے سے مراد ہے کہ جب حکومت وقت سرمائے میں کمی کا شکار ہوتی ہے تو وہ قرض لیتی ہیں جس پر سود ادا کرنا پڑتا ہے اور یہ کام پوری دنیا میں ہوتا ہے جس کے مختلف طریقے بھی رائج ہیں جن میں سے ایک بانڈز کا اجراء ہے۔ بانڈز کی بھی دو طرح کی اقسام ہیں۔

بانڈز کی اقسام میں سے ایک قسم انٹرنیشنل بانڈز ہے جس میں حکومت قرض دینے والے کو سود کی مد میں مخصوص رقم ادا کرنے کی آفر دیتی ہے اور اگر قرض کی رقم دینے والے کو یہ آفر منظور ہو تو وہ قرض دے کر بانڈز خرید لیتا ہے اور حکومت کو مطلوبہ رقم مل جاتی ہے، اس قسم کے بانڈز میں حکومت کی گارنٹی کافی ہوتی ہے اور سرمایہ کار حکومت پر اعتبار کر کے اپنا سرمایہ حکومت کے حوالے کر دیتے ہیں، لیکن اس میں سود شامل ہو جاتا ہے۔

سود سے نجات حاصل کرنے کے لیے بانڈز کی دوسری اقسام بھی متعارف کروائی گئی ہے جو شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہے، انہیں سکوک بانڈز کہا جاتا ہے جس میں منافع کی شرح روایتی بونڈ سے کم ہوتی ہے، اسی وجہ سے حکومت سکوک بانڈز کو ترجیح دیتی ہے، تاہم اس میں سود کی بجائے نفع دیا جاتا ہے لیکن اس میں حکومت کو گارنٹی کے عوض قومی اثاثہ گروی رکھنا پڑتا ہے، تاہم قومی اثاثہ گروی رکھنا ایک رسمی کارروائی ہے جس کا مقصد سود سے بچنا ہے۔

سکوک بانڈز کے اجرا کا سلسلہ شوکت عزیز کے دور میں شروع ہوا جس کے بعد آنے والی حکومتوں نے سکوک بانڈ جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، اسحاق ڈار نے بھی اپنی وزارت کے دوران موٹروے سمیت دیگر قومی اثاثے گروی رکھ کر قرضہ لیا تھا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ موٹروے قرض دینے والوں کی ملکیت ہو گئی ہے یا پیسے جمع ہونے والی رقم قومی خزانے کے بجائے قرض دینے والوں کے اکاؤنٹ میں جائے گی۔

قبل ازیں موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی حکومتوں کے پیش قدم سکوک بانڈز کے لئے قومی اثاثہ ایف نائن پارک کو گروی رکھنے کی تجویز دی تھی جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ذاتی مفادات کی خاطر شورشرابہ کیا جا رہا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ حکومت  قرض کے عوض قومی اثاثوں کو گروی رکھ کر قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>