سابق نیب پراسیکیوٹر نواز شریف کے بیرون ملک ایک ارب ڈالرز کے دعوے سے کیوں مکرگئے؟

نیب پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان کا نواز شریف کے بیرون ملک ایک ارب ڈالرز موجود ہونے کا دعویٰ قیاس آرائی پر مبنی تھا،وہ2015 میں اپنے دعوے سے مکر گئے

اگست 2010 میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم نے برطانوی عدالت کو بتایا تھا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے پاس ناجائز طریقے سے جمع کردہ اثاثوں کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالرز ہے مگر وہ اپنے ہی حلف نامے سے 2015 میں مگر گئے اور موقف اپنایا کہ 2010 میں انہوں نے جو اعدادوشمار پیش کیے تھے وہ قیاس آرائی اور افواہوں پر مبنی تھے۔

تفصیلات کے مطابق نومبر1999 سے نومبر 2000 تک پراسیکیوٹر جنرل نیب کے عہدے پر تعینات رہنے والے فاروق آدم خان نے سابق چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل (ر) سید امجد کی درخواست پر یہ عہدہ سنبھالا تھا، اور فاروق آدم ہی وہ شخص تھے جو جنرل امجد، طارق فواد ملک، جیری جیمز، ڈاکٹر پیپر ولیمز اور غضنفر علی کے ہمراہ براڈشیٹ معاہدے کا مرکزی کردار سمجھے جاتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان نے 2010 میں برطانوی ہائیکورٹ میں ثالثی جج کے روبرو کہا تھا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے پاس پاکستان سے باہر ایک ارب ڈالرز کے اثاثے ہیں اور یہ کہ اگر نیب براڈشیٹ اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو منسوخ نہ کرتا تو براڈ شیٹ یہ رقم ریکور کر سکتی تھی۔

اسی سابق پراسیکیوٹر جنرل نے دوبارہ لندن کی ہائیکورٹ میں دوسرے جج سر اینتھونی ایونز کے روبرو2015 میں پیش ہو کر اپنے ہی پرانے حلف نامے سے مکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل اور براڈشیٹ کے گواہ کی حیثیت سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ وساتھیوں کے حوالے سے جن اعداد و شمار کا حوالہ اپنے پہلے حلف نامے میں دیا تھا وہ قیاس آرائی پر مبنی تھے اور ان کے متعلق ٹھوس شواہد بھی نہیں تھے۔

تحریف شدہ حلف نامہ 17 جولائی2015 کو لندن ہائیکورٹ میں جمع کرایا گیا تھا اور ساتھ ہی درخواست دائر کی گئی کہ ان کے پرانے حلف نامے کو نئے حلف نامے کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔ یہ بھی ان کی جانب سے کہا گیا کہ جب انہوں نے 2010 میں حلف نامہ جمع کرایا تھا تو ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی مگر اب وہ پہلے کی نسبت بہتر محسوس کرتے ہیں۔

دوسری جانب فاروق آدم خان کے بیٹے عمر فاروق نے براڈشیٹ سے تعلق رکھنے والی فرم آرچرڈسولیسیٹرز ( solicitors ) کے لیے کام کرنے کا اعتراف کر لیا۔

عمر فاروق کے مطابق وہ سن 2000 میں آرچرڈسولیسیٹرز سے بطور انٹرنی وابستہ ہوئے تھے، لیکن انہوں نے کسی قسم کا کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا وہ کام کا تجربہ حاصل کرنے کیلئے انٹرنی بنے تھے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>