ڈسکہ:فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کا اہم بیان سامنے آگیا

ڈسکہ:فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کا اہم بیان سامنے آگیا

ڈسکہ این اے 75 کے گوئیندکے کے پولنگ اسٹیشن کے قریب فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے کارکنوں کا اہم بیان سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی رنجش پر ن لیگ کے امیدوار کے ساتھیوں نے میرے بھائی کو ناحق قتل اور ہمیں شدید زخمی کیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کی جانب سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کی خبر رساں ادارے کے نمائندے سے بات کرنے کی ویڈیو شئیر کی گئی ہے۔

عثمان ڈار کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں پہلے زخمی کا  بات کرتے ہوئے فائرنگ کے معاملے کی حقیقت بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ "ہمارے پاس اسلحہ تو کیا چھڑی تک نہیں تھی اور وہ لوگ پولنگ اسٹیشن پر اسلحے سے لیس ہو کر آئے تھے”

فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے کا کہنا تھا کہ "اس بات کی گواہی گاؤں والے بھی دے سکتے ہیں کہ ڈنڈے اور اسلحہ کس کے پاس تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سب بھائی وزیراعظم عمران خان کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ رہے ہیں، فائرنگ کے واقعہ میں ایک میرا بھائی شہید ہو گیا ہے لیکن ہم ہمیشہ عمران خان کے ساتھ رہیں گے۔

پولنگ اسٹیشن کے قریب فائرنگ میں دوسرے زخمی کا بتانا تھا کہ "اس حلقے سے ہمیشہ ن لیگ ہی جیتتی آئی ہے اور ہر دفعہ کی طرح یہ اس دفعہ بھی چاہتے تھے کہ یہاں سے ن لیگ ہی جیتے، ن لیگ کے امیدوار کو پتا تھا کہ وہ اس دفعہ یہاں سے نہیں جیت پائیں گے، جس کی وجہ سے اس نے پہلے ہی ہم پر حملہ کروانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پورا گاؤں اس بات کا گواہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا ہم بلکل نہتے تھے، پولنگ اسٹیشن کے قریب بھی ہم تینوں بھائیوں نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ والوں نے اچانک سے ہم تینوں بھائیوں پر حملہ کر دیا تھا، جب انہیں پتہ چلا کہ ہاتھا پائی سے کچھ نہیں ہوگا تو انہوں نے اپنی گاڑیوں سے جاکر اسلحہ نکالا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی، جاوید بٹ کی جانب سے مسلسل فائرنگ کی جاتی رہی، میرے بھائی ماجد کے ساتھ اسکا بھتیجا گتھم گتھا تھا، جس کو جاوید بٹ کا ہی فائر لگا تھا جو موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا۔

میڈیا کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہونے والے کا مزید بتانا تھا کہ جاوید بٹ نے اپنے بھتیجے کے ہلاک ہونے پر ہم تینوں بھائیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں، میں اور میرا بھائی ساجد شدید زخمی ہوگئے جبکہ ہمارا بھائی ماجد فائرنگ کی زد میں آکر موقع پر دم توڑ گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کا پولنگ اسٹیشن کے قریب فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کے ویڈیو بیان کو جاری کرتے ہوئے لکھنا تھا کہ "‏ڈسکہ کے انتخابات میں اپنے جھوٹے بیانیے کو سچ ثابت کرنے کیلئے خون کی ہولی ن لیگ نے کھیلی! پورا گاؤں بتا سکتا ہے کہ اسلحہ سے لیس افراد کن کے ساتھ تھے؟ زخمی کارکنان کے اس بیان کے بعد میں مریم نواز سمیت پوری لیگی قیادت کو چیلنج کرتا ہوں کہ "گوئیندکے” گاوں آئیں اوراپنی بےگناہی ثابت کریں”

معاون خصوصی عثمان ڈار کا ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک اور پیغام میں دو بے گناہ افراد کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے بتانا ہے کہ "‏مریم نواز کے پیش خدمت! ڈسکہ میں 2 بے گناہ افراد کے قتل اور خونی کھیل میں ملوث مرکزی ملزم حمزہ بٹ گرفتار کر لیا گیا ہے! ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم کیپٹن صفدر اور رانا ثناءاللہ کا فرنٹ مین ہے، کیا مریم نواز اب بھی انکار کریں گی کہ ان غنڈوں کو ان کی جماعت کی سرپرستی حاصل نہیں؟”


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>