پی ٹی آئی امیدوار ڈسکہ کے متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کی درخواست دے،وزیراعظم

پی ٹی آئی امیدوار ڈسکہ کے متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کی درخواست دے،وزیراعظم

ڈسکہ الیکشن: عمران خان کی پی ٹی آئی کے امیدوار کو 20 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ انتخابات کروانے کی درخواست دینے کی ہدایت۔

وزیراعظم عمران خان نے دھاندلی کا راگ الاپنے والی اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف ڈسکہ این اے 75 کے امیدوار کو ہدایت کی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو 20 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ انتخابات کروانے کی درخواست دے۔

وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو یہ ہدایت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں دی ہے، جس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ "ہمیشہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے جدوجہد کی ہے”

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں مزید کہا کہ "‏اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کے اعلان سے قبل اسکی کوئی قانونی حاجت نہیں مگر پھر بھی میں تحریک انصاف کے امیدوار سے گزارش کروں گا کہ وہ NA-75 ڈسکہ کے ان 20 پولنگ اسٹیشنز جن پر حزب اختلاف واویلا کر رہی ہے، میں دوبارہ پولنگ کا کہیں”

وزیراعظم عمران خان کا ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہنا ہے کہ "‏ایسا اس لئے کہ ہم وہی شفافیت چاہتے ہیں جس کے حصول کیلئے ہم سینٹ انتخابات میں "اوپن بیلٹ” کا تقاضا کررہے ہیں”

ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ "‏ہم ہمیشہ آزادانہ اور شفاف انتخابی عمل کی تقویت کیلئے کوشاں رہیں گے مگر بدقسمتی سے دیگر جماعتوں میں اس حوالے سے سنجیدگی کا فقدان ہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد جب ہم نے 4 حلقے کھلوانا چاہے تو اس کیلئے ہمیں 2 برس کی طویل اور صبرآزما جدوجہد سے گزرنا پڑا”

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل کا وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لیے گئے فیصلے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ” جیسا کہ پورے پاکستان کو پتہ ہے کہ 1996 سے جب سے عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی ہے، تب سے وہ صاف اور شفاف الیکشن کی ہی بات کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق "عمران خان پارٹی کی بنیاد رکھنے سے لے کر اب تک پاکستان میں انصاف کی بات کر رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی جماعت کا نام تحریک انصاف رکھا تھا، عمران خان واحد لیڈر ہیں جو کسی نرسری میں پل کر نہیں آئے بلکہ اپنے زور پر نیچے سے اوپر تک لڑ کر دو پارٹی سسٹم کو توڑ کر وزیراعظم بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جدوجہد کی بات کی جائے تو 2013 میں جب پہلی بار ہمیں خیبرپختونخوا حکومت ملی تھی، تب بھی انہوں نے سب سے پہلے یہ ہی کہا تھا کہ سینٹ کا الیکشن صاف شفاف ہو، 2015 میں جب ہم نے پہلی دفعہ سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا تو پیسہ چلا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا میڈیا سے گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ 2015 میں اپوزیشن جماعتیں اپنے میثاق جمہوریت کے معاہدے کی شق نمبر 23 اور 24 میں کہہ چکی تھیں کہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ سے ہونا چاہیے، جس پر عمران خان نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ ترمیم لے کر آئیں گے تو ہم آپ کی بھرپور حمایت کریں گے۔

ڈسکہ میں ہونے والے حالیہ الیکشن پر بات کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ہونے والے الیکشن کے نتائج پریزائیڈنگ افسران نے اپنے آر او کو واٹس ایپ پر بھیج دیے تھے، اس کے باوجود اپوزیشن والوں نے دھاندلی کا شور مچایا ہوا ہے، جس پر عمران خان نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو دوبارہ الیکشن کروانے کی دعوت دی ہے۔

    • 😂اؤے نسواریو، پہلے نسوار کے نشے میں دھاندلی کی کوشش کرو ، پکڑے جانے پر الزام اپنے مخالفین پر لگادو ، حکومتی عملے کے غیر حاضر رہنے کی تحقیقات کرنے سے اجتناب کرو ، الیکشن کمیشن پر دھاندلی زدہ نتائج کو قبول کرنے پر دباؤ ڈالو اور جب سب کچھ ناکام ہو جائے تو آخر میں ری پولنگ کروانے کا شوشہ چھوڑ دو ۔ یہ ہوتی ہے سپورٹ مین فی فٹ اور فٹے منہ ۔ ان سب کاموں کے بجائے یہ بتاؤ کہ 20 پریذائڈنگ آفیسر کو اغوا کرکے کہاں لے جایا گیا ۔ در فٹے منہ تمہارا ۔

    • اؤے نسواریے ۔ اگر ن لیگ سری کانت ہوگی تو ق لیگ بنی غالہ بھانت ہوگی ۔ ویسے بدبودار نسو اریے بڑے ڈاکو پرویز الہی کی گود میں بیٹھ کر بونگی خان کتنا بونگا نظر آتا ہوگا ۔ پرویز الہی کا کہونہ چاٹنے کے لیے بونگی نیازی اس کے گھر پر حاضر ہوا ۔ شرم کا مقام ہے ، جعلی خان نے سارے مہذبی، پیلے دانت والے نسواریوں کی ناک کٹوادی ۔ ھور چوپو جعلی خان نوں ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >