سپریم کورٹ :برطرف کیے گئے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس میں پیشرفت

سپریم کورٹ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کیس میں 28 جنوری کی سماعت کا تین صفحات کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی  لارجربینچ نےتحریری حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزار کے وکیل حامدخان نے موقف اپنایا کہ جسٹس شوکت عزیزکے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (پروسیجرآف انکوائری2005) کے تحت کارروائی کی گئی لیکن فیئراور اوپن ٹرائل کے حق سے محروم کردیا گیا

ڈسپلنری کارروائی کا سامنا کرنے والے جج کو جو قانونی حقوق حاصل ہیں ان کی خلاف ورزی کی گئی جو کارروائی کی گئی وہ دائرہ کار کے بغیر اور اس عدالت کی طرف سے طے کردہ قانون کے مطابق نہیں تھی اس کیس میں آئین کے آرٹیکل211کے تحت حقائق کا جائزہ لیا جانا چاہیئے تھا۔

عدالت نے حکم نامے میں لکھا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران دیکھنا ہوگا کہ آئین کے آرٹیکل211 کی روشنی میں یہ ددرخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔ اس کیس کے حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ آرٹیکل 211کے تحت جو پابندی ہے اس کا دائرہ کار اور اثر بھی کیا ہوگا اس آئینی شق کی تشریح کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے کیونکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی 30جون2021کو ریٹائرمنٹ کی مدت کو پہنچ جائیں گے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔

عدالت نے اسلام آباد بار کی پٹیشن کے حوالے سے لکھا ہے کہ بار کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کی پٹیشن میں جن پیراگرافس پر اعتراض ہے ان کو ڈیلیٹ کیا جائے گا جس پر اسلام آباد بار کے وکیل کو عدالت نے اجازت دی  کہ وہ ترمیم شدہ درخواست جمع کرا سکتے ہیں

دوسری جانب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے کیس 25 فروری کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست دائر کردی گئی ہے

  • کرپٹ بارز ایسوسی ایشن آپنے کرپٹ باپ کو بچانے میدان میں آگئے ہیں یہ کرپٹ بار ایسوسی ایشن ہی ان کرپٹ ججوں کو عدالتوں میں بھرتی کراتے ہیں اور پھر ان کرپٹ ججوں کے اور کرپٹ حکمرانوں کے وکیل بن کر آپنا بھتہ وصول کرتے ہیں
    بار ایسوسی ایشن نے عدالتوں کو یرغمال بنایا ہوا ھے

      • جن پٹواری کھوتوں کو 40 سالوں میں کرپشن نظر نہیں آتی ان پٹواری کھوتوں کو 2 سالوں میں تبدیلی کیسے نظر آئے گی ناممکن ھے ہٹواریوں کی آنکھوں کانوں اور عقل پر پردہ پڑھ چکا ھے

        • اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان نسواریوں کی آنکھوں میں جوایک نیازی کو خان سمجھتے ہیں، بنی غالہ میں بیٹھی ایک عاملہ نے جادوئ نسوار دے ماری ہو اور سارے نسوار پیلے دانت نکالے منجوں کے اڈے مانسہرہ کو بونگی کا پیرس سمجھ رہے ہوں ، تلہ گنگ جرمن کا میونخ اور پشاوری چوک کا نسواری اڈہ کیلی فورنیا نظر آرہا ہو ۔ 😂 ۔ ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >