پاکستانی معیشیت کیلئے خوشخبری:سعودی عرب کی 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

دوہزار انیس میں جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ پاک سعودی تعلقات نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا گاڑی خود ڈرائیو کر کے معزز مہمان کو لانا اور پھر دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگوئج، مسکراتے چہرے، دوستانہ انداز ۔۔ ان سب نے پاکستان میں امیدوں کے چراغ جگا دیے۔ سعودی ولی عہد نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیا اور جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کر دیا۔

اس دورے میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ 20 ارب ڈالرز کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ان معاہدوں کو پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ قرار دیا۔ان معاہدوں میں گوادر میں آئل ریفانری کا قیام شامل تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو مالی مشکلات سے نکلنے کے لیے کئی ارب ڈالرز کا قرض بھی شامل تھا۔ اسی طرح تین ارب ڈالرز کا تیل ادھار پر بھی دینے کا اعلان کیا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دن اچانک پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نجی چینل پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب پر تنقید کی اور کہا کہ کشمیر کے معاملے میں سعودی عرب ہماری توقعات پر پورا نہیں اترا۔ اس بیان پر سعودی عرب نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو گئے۔

اس دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو شاہ سلمان نے ان سے ملاقات کی اور نہ ہی شہزادہ محمد بن سلمان نے وقت دیا۔ کچھ عرصہ بعد سعودی عرب نے پاکستان سے اپنی قرض کی رقم قبل از وقت مانگ لی۔ پاکستان نے چین سے دو ارب ڈالرز لے کر سعودی عرب کو واپس کر دیے۔

پاکستان میں سرمایہ کاری اور گوادر میں آئل ریفائنری جیسے منصوبوں کا ذکر بھی ختم ہو گیا اور بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مستقل منہ موڑ لیا ہے اور بھارت سے پینگیں بڑھانی شروع کر دی ہیں۔اس کے بعد امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کوشکست ہوئی اور جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر متخب ہوئے تو خطے کی صورتحال ایکدم سے تبدیل ہونے لگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دور صدارت سعودی عرب امریکہ تعلقات کے لیے ایک سنہرا دور تھا۔ اس دوران امریکہ نے سعودی عرب کے حریف ملک ایران پر شدید دباؤ قائم رکھا اور سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کے اربوں ڈالرز کے معاہدے کیے۔ تاہم جوبائیڈن نے آتے ہی کچھ ایسے اقدام کیے ہیں جس سے امریکہ اور سعودی عرب تعلقات بگڑتے نظر آرہے ہیں۔

جو بائیڈن نے ایران کیساتھ نرم رویہ اختیار کیا اور سعودی عرب کے ساتھ ٹرمپ دور میں ہونے والے سارے دفاعی معاہدے معطل کر دیئے۔ اسی طرح امریکہ نے یمن میں بھی سعودی عرب کی حمایت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی رویے کے بعد سعودی عرب کو ایک بار پھر اپنے پرانے دوستوں کا رخ کرنا پڑا۔ اس کا ثبوت عرب نیوز میں شائع ہونے والی خبر ہے جس کے مطابق گوادر میں 10 ارب ڈالرز کی آئل ریفائنری کا ماسٹر پلان اس برس کے آخر تک تیار ہو جائے گا۔
خبر کے مطابق گوادر میں 88 ہزار ایکڑز کے وسیع رقبے پر آئل سٹی تعمیر کیا جائے گا

جس میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ریفائنری بھی شامل ہو گی۔ اس ریفائنری میں ڈھائی سے تین لاکھ بیرل تیل روزانہ صاف کرنے کی گنجائش موجود ہو گی۔ یہ منصوبہ پانچ سے چھ برس میں کام شروع کر دے گا۔

عرب نیوز کے مطابق 2023 سے گوادر میں صنعتی پیداوار کا آغاز ہو جائے گا۔ 2050 تک گوادر شہر کی فی کس آمدنی 15 ہزار ڈالرز تک پہنچ جائے گی جو صرف امیر ممالک کے شہریوں کے برابر ہو گی۔ اس وقت بھارت کی فی کس آمدنی 1877 ڈالرز ہے۔
ان خبروں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گوادر پاکستانی معیشت کے لیے کتنی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >