ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 میں ری الیکشن کی سفارش کر دی

 ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 میں ری الیکشن کی سفارش کر دی

این اے 75 کے ضمنی الیکشن سے متعلق ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ الیکشن کمیشن میں پیش، دوبارہ الیکشن کی سفارش

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر مسلم لیگ نون کی امیدوار نوشین افتخار کی جانب سے دی گئی درخواست پر تحقیقات کر کے ریٹرننگ آفیسر نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں پیش کردی ہے۔

ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 75 کے 23 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں تاخیر پر ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نے پولنگ کے نتائج کو حتمی نتائج میں شامل نہ کرنے کی درخواست کی۔

رپورٹ کے مطابق ریٹرننگ آفیسر نے نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخار سے کہا کہ ان 23 پولنگ اسٹیشنز پر ن لیگ کے پولنگ ایجنٹس کو پریزائیڈنگ آفیسرز کی طرف سے دیے گئے فارم 45  فراہم کیے جائیں۔ ن لیگی امیدوار نے 18 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 بھجوائے، جن کا تفصیلی جائزہ لینے پر لیگی امیدوار کے خدشات کی تصدیق ہوئی۔

ریٹرننگ آفیسر نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کے خدشات کی تصدیق کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے پریذائیڈنگ آفیسرز کے فارم 45 پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پریذائیڈنگ آفیسر سے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

الیکشن کمیشن میں پیش کی گئی  رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیس پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ آفیسرز کو صوبائی الیکشن کمشنر کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے بلایا گیا، 13 گمشدہ پریذائیڈنگ آفیسرز میں سے 8 نے اگلے روزپیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

 ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 میں ری الیکشن کی سفارش کر دی

رپورٹ کے مطابق پریذائیڈنگ آفیسرز کا تحقیقات کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتانا تھا کہ رات ساڑھے دس بجے تک ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا تھا لیکن شدید دھند کی وجہ سے انہیں پہنچنے میں تاخیر ہوئی جبکہ ان کے موبائل فون کی بیٹری ختم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

 ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 میں ری الیکشن کی سفارش کر دی

ریٹرننگ آفیسر کا اپنی رپورٹ میں بتانا تھا کہ پریزائیڈنگ افسران تحقیقات کے دوران خوفزدہ اور پریشان دکھائی دے رہے تھے، لہٰذا بادی النظر میں 14 پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ آفیسرز نے نتائج میں ردوبدل کیا، تاہم الیکشنز میں شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن این اے 75 کے نتائج کا اعلان نہ کرے اور این اے 75 کے 14 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ الیکشن کرائے۔

  • اس ریٹرنگ آفیسر کو تھر کے علاقے میں ٹرانسفر کرا دیا جائے پاکستان کا المیہ ھے کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ چوروں کے ساتھ ملا ہوتا ھے اور 2013 میں اس کے ھزاروں ثبوت عدالتوں میں پیش کئے گئے لیکن عدالتوں نے کہا دھاندلی تو ہوئی ھے لیکن جان بوجھ کر دھاندلی نہیں کی گئی ھے عجیب مزاخ بنایا ہوا ھے اس الیکشن کمیشن نے پاکستان کا ایک کرپٹ ترین ادارہ ھے جس کی وجہ سے اس ملک میں چور ڈاکووں کے خاندانوں کو عوام ماضی میں مسلط کیا گیا ھے اور آج بھی کرپٹ مافیاز کی سپورٹرز کالی بھیڑیں الیکشن کمیشن میں بھی موجود ہیں۔

  • جن لوگوں نے پی ٹی کیلئے چھ ہزار ووٹوں کی جعلی لیڈ بنائی ہے انہیں سزا ملنی چاہیے اور جس امیدوار نے یہ چھ ہزار جعلی ووٹ حاصل کئے ہیں اسے تاحیات نااہل قرار دینا چاہیے

  • Fair enough. Repolling on 14 polling stations is acceptable to PTI/ Imran Khan as well. That’s what returning officer is also suggesting.

    More importantly, a precedent will be set that late submission of form 45 will result in holding of results until a comparative analysis is not done. This happened on many polling stations across Pakistan in 2013 and even Supreme Court found unidentified votes and garbage in the bags and a lot of fraud in forms 45. This repolling should become a law.

    Let’s see when a draft of election reforms law is presented in the parliament, how opposition will behave. To now, they want to continue with the old polling methods.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >