احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

 

احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے غیر ملکی نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے جب کہ احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ احسان اللہ احسان اس وقت کہاں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا غیرملکی نمائندگان سے گفتگو میں انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مدد کرتا آرہا ہے اور ابھی بھی کر رہا ہے اور ان شدت پسند تنظیموں کو جدید اسلحہ اور نت نئی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا غیرملکی نمائندگان سے گفتگو میں بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان مخالف بھارتی کارروائیوں سے متعلق ہمسایہ ملک افغانستان کی انٹیلی جنس بھی آگاہ ہے، لیکن پاکستان کی ہمیشہ سے ہمسایہ ممالک کی طرف امن کا ہاتھ بڑھانے کی پالیسی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے حالیہ بیان میں خطے میں امن کی بات کی ہے لیکن یہاں امن کا ہاتھ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان مشرقی سرحد پر خطرے سے آگاہ نہیں، پاکستان کی بھارتی فوج کی تمام نقل و حرکت پر ہماری نظر ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، تاہم افغان امن عمل میں مذاکرات بلا تعطل جاری رہنے چاہئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملالہ یوسف زئی کو جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دھمکی دی گئی تھی وہ جعلی تھا، مچھ میں گیارہ کارکنوں کے قتل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کان کنوں کے قتل سے تعلق پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور یہ گرفتاریاں بہت اہم ہیں۔

مسنگ پرسنز کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ہمارے پاس مسنگ پرسنز کے کل 6000 کیسز تھے، جن میں سے 4 ہزار حل کئے جا چکے ہیں، باقی بچ جانے والے 2 ہزار کیسز بھی حل ہونے کے بہت قریب ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں منظم شدت پسند تنظیموں کو بہت عرصہ پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا اور اب ان میں بڑے حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رہی لیکن کچھ عرصہ قبل ان علاقوں میں ایک بار پھر سے پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے ان شدت پسندوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >