لاہور میں اسقاط حمل کے دوران ایک اور لڑکی جان گنوا بیٹھی،لڑکی کا دوست گرفتار

کیا لاہور کے اسپتال میں مرنے والی لڑکی کی موت اجمتاعی زیادتی سے ہوئی تھی؟

لاہور کے اسپتال میں مرنے والی لڑکی کی موت کی وجہ اسقاط حمل تھی یا اجتماعی زیادتی؟  لڑکی کے گرفتار دوست نے ساری حقیقت بتا دی۔

تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل لاہور میں اسقاط حمل کے دوران لڑکی کی ہلاکت کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں لڑکی کی لاش ہسپتال میں چھوڑ کر بھاگنے والے لڑکی کے دوست نے تفتیش کے دوران حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

ملزم اعجاز کا بتانا تھا کہ میں ایک ریسٹورنٹ میں ملازمت کرتا ہوں اور میرے مقتولہ رابعہ سے چھ، سات سال سے مراسم تھے اور ہمارا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا ، جس کا اس کے گھر والوں کو بھی علم تھا اور اس کے گھر والے یہ بھی جانتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔

لڑکی پر تشدد کے حوالے سے ملزم اعجاز کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی اس پر تشدد نہیں کیا لڑکی کے گھر والے جھوٹ بول رہے ہیں، ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور میں نے کبھی اس پر تشدد کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔

ملزم اعجاز کے مطابق جب وہ 16 فروری کی صبح رابعہ کو اسقاط حمل کے لیے لے کر گیا تو میں نے رابعہ کو منانے کی کوشش کی کہ ہم نکاح کر لیتے ہیں لیکن رابعہ نے منع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسقاط حمل کروا لیتے ہیں لیکن شادی دھوم دھام سے کریں گے۔

ملزم نے بتایا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ رابعہ پانچ ماہ کی حاملہ ہے تو میں نے اپنی ممانی سے اسقاط حمل کے لیے رابطہ کیا، جس میں مجھے کہا تھا کہ اسقاط حمل ہو جائے گا، جن پر میں اسے اپنی ممانی کے پاس لے گیا اور جب انہوں ہونے اسقاط حمل کا پروسس شروع کیا تو مجھے رابعہ نے کہا تھا کہ تم جاؤ اور ناشتہ کر آو میں بالکل ٹھیک ہوں۔

ملزم نے بتایا کہ تقریبا ساڑھے چار بجے جب میں نے اندر جا کر رابعہ کی طبیعت بارے میں دریافت کیا تو میری ممانی نے کہا کہ یہ ابھی بے ہوش ہے تھوڑی دیر میں ہوش میں آ جائے گی اور اس کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے، جس پر میں باہر آکر انتظار کرتا رہا اور کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے فوری ہسپتال لے کر جانا پڑے گا، جہاں سے میں اسے ہسپتال لے کر گیا لیکن اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی رابعہ دم توڑ چکی تھی۔

ملزم اعجاز نے رابعہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رابعہ کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا مجھ پر یہ بے بنیاد الزام لگایا جا رہا ہے کہ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر رابعہ سے اجتماعی زیادتی ہے، اس کی موت زیادتی سے نہیں بلکہ اسقاط حمل کے دوران زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

دوسری جانب پی ایس نشتر میں تعینات انچارج انویسٹی گیشن تصدق کا کیس کی ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتانا تھا کہ ملزم اعجاز اور مقتولہ رابعہ کے ایک دوسرے کے ساتھ چھ، سات سال سے مراسم تھے اور دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔

انچارج انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم اعجاز نے رابعہ کو اسقاط حمل کے لیے متعدد بار منانے کی کوشش کی لیکن مقتولہ منع کر دیتی تھی لیکن 16 فروری کو ملزم اسے منا کر اپنے ساتھ لے گیا اور اسقاط حمل کے لیے لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں موجود گھر کے اندر لے گیا، جہاں اسقاط حمل کے دوران زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے رابعہ انتقال کر گئی۔

انچارج انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں لڑکی پر تشدد ثابت نہیں ہوا، اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی لڑکی کی موت کی وجہ اسقاط حمل کے دوران زیادہ خون بہہ جانا بتائی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی تفتیش کے دوران لڑکی سے اجتماعی زیادتی بھی ثابت نہیں ہوئی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >