نیسلے لیکٹوجن سے بچی کی ہلاکت: کیس سے پیچھے ہٹنے کیلیے حسان نیازی اور انکے موکل کو کسطرح دھمکایا گیا؟

نیسلے لیکٹوجن سے بچی کی ہلاکت کا معاملہ، نیسلے پاکستان بڑی مشکل میں پھنس گئی، عدالت نے اہم حکم نامہ جاری کر دیا۔

سیاست ڈاٹ پی کے، کے سی ای او عدیل حبیب کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر حسان نیازی کا نیسلے پاکستان کے خلاف عدالت میں دائر کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ نیسلے پاکستان کے خلاف کیس میں جو پیش رفت پندرہ دن میں ہونی تھی وہ تین سال کے طویل عرصے میں نہیں ہوئی ہے کیونکہ نیسلے پاکستان کے خلاف کیس کرنے والا کوئی طاقت ور نہیں بلکہ عام پاکستانی شہری ہے۔

حسان نیازی کا کیس کی طوالت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے موکل عثمان بھٹی کی دو ماہ کی بچی تھی جس کو ڈاکٹر کے کہنے پر لیکٹوجن دیا گیا، جس کے بعد بچی کی طبیعت خراب ہوگئی اور بچی جانبر نہ ہو سکی انتقال کر گئی، بچی کے انتقال کے پانچ دن بعد عثمان بھٹی ہمارے پاس مقدمہ کے لئے آتا ہے جس کے کہنے پر ہم کورٹ میں نیسلے کے خلاف کیس دائر کر دیتے ہیں۔

حسان نیازی نے بتایا کہ ہم نے عدالت سے درخواست کے ذریعے استدعا کی تھی کہ پولیس والے بچے کا پوسٹ مارٹم نہیں کروا رہے لہذا عدالت پولیس کو بچی کا پوسٹ مارٹم کروانے کے احکامات جاری کرے، لیکن نیسلے نے مداخلت کرتے ہوئے بچی کے پوسٹ مارٹم میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے ڈیڑھ ماہ کا وقت ضائع کروایا، جس کی وجہ سے بچی آپ کی باڈی میں موجود اجزا ختم ہو رہے تھے، جس کے پوسٹ مارٹم کے لیے سمپل لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آخرکار ڈیڑھ ماہ کے عرصے کے بعد پنجاب فرانزک لیب نے بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بچی کے پیٹ سے دو چیزیں ملی ہیں جن میں سے ایک "پیسٹس سائٹس” اور دوسری چیز "زہریلا کیمیکل ہے، جس کی وضاحت کرنا مشکل ہے، فارنزک لیب کی رپورٹ کے بعد بچی کے والدین نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا کہا لیکن پولیس نے نیسے پاکستان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

بیرسٹر حسان نیازی کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے نیسلے کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو ہم نے ان سے کہا کہ لیکٹوجن کے دودھ کا ڈبہ کا فارنزیک کروایا جائے، لیکن پھر بھی پولیس والوں نے پانچ ماہ تک ہم سے سیمپل نہیں لیا ، جس کے بعد ہمیں مجبور لاہور ہائی کورٹ جانا پڑا اور ان پولیس افسران کے خلاف درخواست دی کہ یہ پولیس افسران نیسلے پاکستان سے رشوت لے کر بیٹھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پولیس والے ہم سے لیکٹوجن دودھ کا سیمپل نہیں لے رہے، جس کی وجہ سے یہ میری بچی کی جان چلی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کورٹ آف لاء کے مطابق ثبوت جتنی دیر سے جمع کروایا جائے آپ کی سوچ اتنا ہی کمزور ہوتا ہے، اس کے اس میں پولیس ہمارا ساتھ دینے کی بجائے ہمارے مخالف نیسلے پاکستان کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور کیس میں بلاوجہ کی تاخیر کر رہی تھی، تاہم اس کیس میں اہم پیشرفت ہوئی جب نیسلے نے لاہور ہائی کورٹ کے ذریعے اپنے دودھ کا پنجاب فرانزک لیب سے ٹیسٹ کروایا جس میں بچی کے پیٹ سے ملنے والا زہریلا کیمیکل اور دودھ میں موجود کیمیکل ایک ہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واحد کیس ہے جس میں پہلے پوری انویسٹیگیشن ہوئی ہے اور اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی ہے جبکہ عام طور پر پہلے ایف آئی آر درج ہوتی ہے اس کے بعد انویسٹی گیشن کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیسلے پاکستان اربوں ڈالر کی ملٹی نیشنل کمپنی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں حکومت وقت کو کہتی ہیں کہ آپ کا عام سا غریب شہری ہمیں تنگ کر رہا ہے اگر اسی طرح سے چلتا رہا تو ہم یہاں سے واپس جا رہے ہیں جس پر حکومت بے بس ہو جاتی ہے اور پولیس پر دباؤ ڈالتی ہے، انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں پولیس کا ایک ایس او پی ہے کہ "ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی”

انہوں نے بتایا کہ جب میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں پچیس سے تیس وکلاء کی ایک فوج کھڑی ہے، جن کی جانب سے مجھے دھمکیاں دی جانا شروع ہوگئیں، انہوں نے بتایا کہ ایک دن عدالت لیٹ پہنچنے پر ان لوگوں نے جج صاحب کے پاس کچھ بچے جنہوں نے جج کو جا کر کہا کہ اگر آج آپ نے فیصلہ نہ کیا تو حسان نیازی آپ کو دیکھ لے گا، جس پر جج تاہم مجھ پر بہت برہم ہوئے اور ان کو بڑی مشکل سے بتایا کہ یہ کام میں نے نہیں کیا۔

بیرسٹر حسان نیازی کا اپنی گفتگو میں بتانا تھا کہ اس کیس میں میرے موکل عثمان بھٹی کے گھر پر دو دفعہ سیدھی فائرنگ کی گئی ہے تاکہ وہ ڈر کر گھر بیٹھ جائے اور اپنا کیس واپس لے لی لیکن عثمان بھٹی ڈرنے کے بجائے ڈٹ گیا، انہوں نے کہا کہ انویسٹی گیشن آفیسر ، ڈی ایس پی اور اے آئی جی پنجاب عثمان بھٹی کو خود کہہ رہے ہیں کہ گھر چلے جاؤ آپ کو اس کیس میں کچھ نہیں ملنا، آپ لوگوں کو خواہ مخواہ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہو۔

حسان نیازی کا اپنی گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ مجھے اس بات پر حیرانی ہو رہی ہے کہ پچھلے تین سال سے ہمارا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے رکھا ہوا ہے، ہمارے ملک میں میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرف سے انہیں پیسے آرہے ہوتے ہیں ان کے خلاف وہ بات نہیں کرتے اور یہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

بیرسٹر حسان نیازی کا کیس کی پیشرفت کے حوالے سے کہنا تھا کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ایسے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو آج سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کسی طاقتور کے خلاف جاری نہیں ہوئے، عدالت نے نیسلے کے وکلا اور پولیس کو بلا کر کہا کہ آپ لوگوں کی جانب سے جو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے وہ بد نیتی پر مبنی ہے اور جھوٹی ہے۔

پولیس نے عدالت میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ نیسلے نے جرمنی سے اپنے پروڈکٹ کا فرانزک ٹیسٹ کروایا ہے، جس میں لیکٹوجن کے ڈبہ پر درج اجزاء کی مقدار کئی گنا زیادہ پائی گئی، جس کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ یہ صاف ظاہر کر رہی ہے کہ پولیس کا جھکاؤ کس طرف ہے، لہذا پولیس 9 مارچ کو نیسلے پاکستان کی ایم ڈی کو ہدایت میں پیش کرے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>