کیا پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن میں مک مکا ہو چکا ہے؟ صدیق جان کے انکشافات

 

کیا پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن میں مک مکا ہو چکا ہے؟ صحافی صدیق جان کے الیکشن کمیشن میں ہونے والی اہم سماعت کے بارے حیران کن انکشافات

صحافی صدیق جان کا سیاست ڈاٹ پی کے کے سی ای او عدیل حبیب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آج ہونے والی اہم سماعت کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو دی گئی اپنی دونوں درخواستوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 337 پولنگ اسٹیشنز پر ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، اور انہوں نے 337 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ قبول کیا تھا۔

ن لیگ کے امیدوار نوشین افتخار نے الیکشن کمیشن کو دی گئی اپنی دونوں درخواستوں میں 23 پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے الزام لگایا تھا کہ ان پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی ہوئی ہے، لیکن بعد میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بدلا اور حالات کو ایسے بتایا جیسے کہ عراق اور شام میں دہشتگردوں کی لڑائی چل رہی ہو۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ پہلے دن پی ٹی آئی کے وکیل کی کوئی تیاری نہیں تھی اور انہوں نے پہلے ہی دن اپنا کیس بہت کمزور طریقے سے لڑا، جبکہ آج کی ہونے والی سماعت میں بیرسٹر علی ظفر پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہوئے جنہوں نے بہت زبردست دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر کا رانا عثمان کا کہنا تھا کہ میں یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کروں گا بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دلائل دوں گا۔

انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کے جانب سے پیش ہونے والے سلمان اکرم راجہ کی جانب سے جتنی بھی باتیں کی گئی ہیں ان سب کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ ان میں صداقت بھی ہے یا نہیں؟ اگر پورے حلقے میں دو عناصر جی پولنگ کروانے کے احکامات جاری کیے گئے تو یہ ایک روایت بن جائے گی کہ کل کو کوئی بھی امیدوار اپنے حلقے میں تصادم کروا کر ری پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن میں آجائے گا۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ پریذائیڈنگ افسران کو کس وقت الیکشن کمیشن پہنچنا چاہیے ساتھی علی ظفر صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر ان میں سے اگر کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور نتائج بدلے گئے ہیں تو اس صورت میں ری پولنگ کروائی جا سکتی ہے۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر علی ظفر دلائل بہت اچھے تھے لیکن حیران کن طور پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ حیران کن آیا، انہوں نے کہا کہ یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جو عدالت میں کہتا ہے کہ سینٹ کے ووٹوں کی خرید و فروخت کی باتیں ہو رہی ہیں اور ویڈیو سامنے آ رہی ہیں ہم اس طرح کے ثبوتوں کو قابل قبول نہیں سمجھتے لیکن یہاں الیکشن کمیشن نے اپنے موقف سے بالکل الٹ کام کیا۔

صدیق جان نے الیکشن کمیشن میں ہونے والی سماعت کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ن لیگ والوں نے حلقے میں ہونے والی فائرنگ کی ویڈیو چلائیں تو انہوں نے اپنے ہی کارکن کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کی ویڈیو چلادی جس پر پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ یہ تو ن لیگ والوں کا بندہ ہے اور یہ اس کا نام ہے، جس پر الیکشن کمیشن میں زور دار قہقہہ بھی لگا۔

صدیق جان کا عدیل حبیب کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے آنے والے فیصلے میں اہم کردار چیف الیکشن کمشنر کی دو پریس ریلیزز نے ادا کیا ہے، جس کو ن لیگ بار بار تاریخی ڈاکومنٹ کہہ رہی تھی، لیکن جب سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے نواز شریف کے خلاف ایک فیصلے کی بات کی جائے تو اس پر ن لیگ والے کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور یہاں صرف پریس ریلیز کو تاریخی کہاں جا رہا ہے۔

صدیق جان کا ہم انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران اپوزیشن کے نامزد کردہ ہیں، الیکشن کمیشن کے دو ممبران نواز شریف اور خورشید شاہ نے لگائے تھے اور دو فضل الرحمن کی جانب سے لگائے گئے تھے سب سے اہم بات چیف الیکن کمشنر سکندر سلطان راجہ نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور یہ سال 2000 میں نواز شریف سے جیل میں جا کر ملاقات کیا کرتے تھے۔

صدیق جان کا کہنا تھا کہ جب سکندر سلطان راجہ کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر نامزد کیا گیا تو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے نواز شریف کو فون کرکے کہا تھا کہ "بوس اب کیا کرنا ہے؟” لیکن اب عمران خان کو بھی وہ بندہ ڈھونڈنا ہوگا جس نے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر لگانے کا کہا تھا۔

  • This is absurd. I am a PTI member but this election commission has created history by giving a bold decision. Sultan Raja has tried to draw lines and has given a strong message to both parties that no nonsense would be accepted

    • But who would tell this is to this feeble crowd of immature buffoons ? This is a remarkable difference between what was our sordid history of cheat and fraud and what is now a new dawn of hope and courage. Let be this clear that no matter which party is in power and no matter which group is involved in rigging and stealing the people’s right ,they must be dealt with strong and firm actions .

      • @Humayon Dewan: Johnny sins has deep relations with our family, do not be surprised that I can comment in english.. he taught me well…………. of course once he finished with mom & sis (teaching them english).. 😉

  • او بھائیوں ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن ن لیگ کی لونڈی ہونے کا کردار ادا کر رہی ھے 2013 کے الیکشنز آر اوز ریٹرنگ افسران کے الیکشنز تھے جنھوں نے کھل کر دھاندلی کی تھی اور آج بھی ڈسکہ کے الیکشن میں اراوز نے آپنا کام دیکھا دیا بجائے الیکشن کمیشن کو فرائضِ میں دھوکے بازی کرنے پر اراوز ریٹرنگ افسر کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے تھا الٹا الیکشن کمیشن نے فیصلے میں ن لیگی درخواستوں کی مکمل حمایت کی ھے اور آپنے اراوز ریٹرنگ آفیسر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ آور آئیندہ بھی یہ ھڈ حرام اراوز ریٹرنگ آفیسر ہی اس حلقے میں الیکشن کروائے گا۔
    الیکشن کمیشن پاکستان میں ہمیشہ عوام کے ووٹوں کو چوری کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ھے۔ قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ اس الیکشن کمیشن پر برباد ہو رہا ھے الیکشن کمیشن کبھی بھی صاف اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ھے

  • صدیق جان کی پچھواڑی میں بہت آگ لگی ہے۔۔۔ کھوتی دا پتر۔ اتنا تو عثمان ڈار اور ملہی کو دکھ نہیں ہوا اس فیصلے کا جتنی تکلیف اس بوٹ پالشیے کو ہو رہی ہے۔

    • یہ حرامی، پی ٹی آئ کی بھانڈ پارٹی تشکیل کے بعد کی پیدائش ہے ، یہ پکا حرامی بات کرتے ہوئے بھی اپنی پرانی چوپنے کی پریکٹس کا ثبوت ھر لفظ کی ادائیگی کے بعد ہونٹوں کو سکڑا کر سیکشن کی آواز نکال کر دیت ہے ۔ اس حرام کے پلے کو کوئ غرض نہیں ہے کہ اسکی بھانڈ پارٹی نے دھاندلی کرتے وقت بھی اپنی روایتی نااہلی کا ثبوت دیا ہے اور اتنے ثبوت پیچھے چھوڑ گئ ہے کہ کوئ غیرت مند اور عزت دار انسان اپنا سر اونچا نہیں کر سکتا، مگر یہ بے شرم حسب معمول پی ٹی آئ کی پھٹی ہوئ ٹاکیوں کو مسلسل چوس رھا ہے ۔

  • اچھا یوتھیے ایسے بےشرم ہیں کہ جس سکندر سلطان راجہ کا نام پھٹی آئی نے تجویز کر کے اسے چیف الیکشن کمشنر لگایا تھا، آج اسے نوازشریف کا چمچہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ بےشرمو، کہاں سے لاتے ہو اتنی ڈھٹائی اور بےغیرتی۔

  • اچھا یہ اس بوٹ پالشیے کی عجیب ہی لاجک ہے۔ اس سے پہلے ثاقب ناسور کنجر بھی نوازشریف کے ماتحت کام کر چکا تھا لیکن تب تمہیں خیال نہیں آیا ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >