ٹرین سے اسٹیٹ بینک کے لاکھوں روپے چرانے کے معاملے کا ڈراپ سین، ملزمان گرفتار

ملکی تاریخ میں پہلی بار مرکزی بینک کے پچاس لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ چوری ہوئے ہیں اور یہ نوٹ سازو سامان لے جانے والی ٹرین سے چوری ہوئے ہیں تاہم ریلوے پولیس نے چوری میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی لاکھوں روپے کی چوری میں وہ افراد ہی ملوث نکلے جن کو بینک کے اربوں روپے کی منتقلی کے دوران امانت  کی زمہ داری سونپی گئی تھی، پولیس کے مطابق چوری کی واردات میں سازوسامان منتقل کرنے والی ٹرین کا ملازم اس کے دو بیٹے اور داماد ملوث نکلے ہیں۔

پولیس حکام کا بتانا تھا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کی 17 ارب روپے کی بھاری رقم اور پرائز بانڈ پر مشتمل نقدی کراچی سے فیصل آباد منتقل کی جا رہی تھی کہ رات کے اندھیرے میں پچاس لاکھ روپے کی بھاری رقم سمہ سٹہ کے ریلوے اسٹیشن سے چوری کر لی گئی۔

خبر رساں ذرائع کے نمائندے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ چوری کی واردات میں گرفتار ہونے والے ملزم صادق سیال نے اپنے بیٹوں اور داماد کی مدد سے رقم چوری کی ہے جبکہ چوری کی واردات میں آٹھ سے زائد افراد کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بعدازاں سمہ سٹہ ریلوے پولیس کے حکام کا اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزم ساجد سیال کے گھر سے 30 لاکھ روپے کی نقدی برآمد ہوئی ہے اور اسی کی نشاندہی پر اس کے بہنوئی محمد زبیر کے گھر سے 19 لاکھ 34 ہزار 400 روپے کی چوری شدہ رقم برآمد ہوئی ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>