پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ،سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد کیلئے اتفاق

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے، جس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جانب سے ڈی جی ملٹری آپریشنز کی گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ مشترکہ مفادات کے حصول اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹریز نے امن کیخلاف اور تشدد کو فروغ دینے والے بنیادی معاملات اور خدشات کو حل کرنے پر اتفاق کیا۔

فریقین نے باہمی معاہدوں، سمجھوتوں اور ایل او سی سمیت دیگر سیکٹرز پر سیز فائر پر 24 اور 25 فروری کی درمیانی رات سے سختی سے عمل درآمد پر اتفاق کیا۔

ہاٹ لائن گفتگو کے دوران اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ہاٹ لائن رابطے اور بارڈر فلیگ میٹنگ کا موجودہ طریقہ کار استعمال کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں رابطہ 1987 سے جاری ہے، پاکستان اور بھارت متفق ہیں کہ ہاٹ لائن کے موجودہ مکینزم کو مؤثر بنایا جائے۔

میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق ایل او سی پرجنگ بندی کےلیے 2003 میں ایک اور انڈراسٹینڈنگ ہوئی جب کہ 2014 سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی، 2003 کے بعد سے اب تک 13ہزار 500 سے زائد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 310 شہری جاں بحق اور 1600 کے قریب زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 2014 سے 2021 کے درمیان 97 فیصد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں اور 2019 میں سب سے زیادہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوئیں جب کہ 2018 میں سیز فائر خلاف ورزیوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>