کراچی: عزیر بلوچ 10 مقدمات میں بری


لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ ایک اور مقدمے میں بری ۔۔ بری مقدمات کی تعداد 10 ہوگئی

کراچی سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل کمپلیکس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ارشد پپو کے قریبی ساتھی کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔

پراسیکیوشن عزیر بلوچ کے خلاف ایک بار پھر جرم ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی، مقامی عدالت نے عزیر بلوچ کو ارشد پپو کے قریبی ساتھی کے قتل کے مقدمے میں بھی بری کردیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم اگر کسی اور مقدمہ میں نامزد نہیں تو اسے رہا کردیا جائے۔ اس طرح گینگ وار کے سرغنہ دسویں مقدمہ سے بھی بری ہوگئے۔

پولیس کے مطابق عزیر بلوچ نے 2014میں ارشد پپو کے قریبی ساتھی کو ہلاک کیا تھا,عزیر جان بلوچ سمیت دیگر کے خلاف 2014 میں تھانہ کلاکوٹ میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ عزیر بلوچ اب تک دس مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔

بری ہونے والے مقدمات میں 7 سیشن جبکہ ایک مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت تھا, عزیر بلوچ کو مجموعی طور پر 59 مقدمات میں 10 مقدمات میں بری کیا جاچکا ہے۔

رواں سال جنوری میں انسداد دہشتگردی عدالت نے ہڑتال کے دوران بس جلانے کے کیس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ اور امین بلیدی کو بری کردیا تھا۔

انسداد دہشتگردی عدالت میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی تھی جس پر عدالت نے عزیر بلوچ اور امین بلیدی کو بری کیا۔ عدالت نے بس جلانے کے مقدمے میں سات مفرور ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتار جاری کردیے تھے۔ مفرور ملزمان میں حبیب جان، راشد بنگالی، جبار جھینگو، ستار پیڑا، غفار نیازی، شیراز کامریڈ اور جمشید شامل ہیں۔

ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 24 اپریل 2012 کو بغدادی کے علاقے میں ہڑتال کے دوران جلاؤ گھیراؤ کیا اور ایک منی بس کو نذرِ آتش کردیا تھا۔

اس سے قبل عزیر بلوچ 12 جنوری کو قتل کے ایک مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے شواہد فراہم نہ کیے جانے پر بری ہوئے تھے۔

  • لعنت لعنت اور لعنت چوروں ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کی جمہوریت بہترین انتقام ہے اور اس عوام کے ساتھ انتقام لینے میں چوروں ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے ساتھی اور معاون باجوہ اور جنرل فیض ہیں۔ کیا ادارے سوۓ ہوۓ ہیں ؟ کیا ان کو نظر نہیں آ رہا کہ زرداری حکومت کیا کر رہی ہے ؟ لعنت ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >