سپریم کورٹ کا غیرقانونی چیمبرز مسمار کرنے کا حکم برقرار :غیرقانونی کام کو جواز کیسے فراہم کریں؟

 

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں وکلا کے غیرقانونی چیمبرز کو فوری طور پر گرانے اور فٹبال گراؤنڈ کو بحال کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔

سپریم کورٹ نے غیرقانونی چیمبرز مسمار کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھتے ہوئے وکلا چیمبرز کے معاملے پر کمیشن بنانے کی بھی درخواست مسترد کر دی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کسی غیرقانونی کام کو جواز کیسے فراہم کریں؟

عدالت نے وکلا کی متبادل جگہ ملنے تک مہلت دینے کی استدعا بھی مسترد کی اور چیف جسٹس نے کہا کہ کس بنیاد پر غیرقانونی چیمبرز کو برقرار رہنے دیں؟ وکلا کا فٹبال گرائونڈ پر کوئی حق دعویٰ نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس نے پریکٹس کرنی ہے اپنا دفتر کہیں اور بنا لے۔ وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ فٹبال گراؤنڈ پر کئی عدالتیں بھی بنی ہوئی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو عدالتیں گرائونڈ کی زمین پر بنی ہوئی ہیں وہ بھی مسمار کر دیں۔چیف جسٹس نے وکیل رہنما کو پیشکش کی کہ ’حامد خان صاحب دو ماہ میں گرائونڈ خالی کر یں؟‘ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہائی کورٹ نئی بلڈنگ میں منتقل ہونے تک کا وقت دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا لمبا وقت نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ وکلا کو چیمبرز خالی کرنے کے لیے کتنی مہلت چاہیے، وکلا کب یہ چیمبرز کی زمین سی ڈی اے کے حوالے کریں گے۔ اسلام آباد بار کا اس گروانڈ کی زمین سے کیا تعلق ہے؟ کیا یہ گروانڈ وکلا کی ملکیت ہے۔؟


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>