پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تاریخی ریلوے لائن کا آغاز

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تاریخی ریلوے لائن کا آغاز ہونے والا ہے جو فی الحال صرف مال برداری کے لیے استعال ہو گی۔ تینوں ممالک کے درمیان شروع ہونیوالے 6 ہزار 500 کلومیٹر کے اس طویل منصوبے میں اور کتنے ممالک شامل ہو سکیں گے؟ یورپ اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم کس قدر بڑھ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی معیشت کو مجموری طور پر اس سے کتنا فائدہ ہو گا۔

آئیے ان تمام سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔2021 کے دوران پاکستان، ایران اور ترکی ایک میگا ریلوے لنک کے ذریعے جڑ جائیں گے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سےشروع ہونے والی ٹرین تہران کے رستے ترکی کے کیپٹل استنبول تک جائے گی۔ راستے میں یہ دیگر شہروں میں بھی رکے گی۔

یہ تینوں ممالک ماضی میں ای سی او یعنی اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن کے ممبر رہ چکے ہیں جس کا قیام 1985 میں ہوا تھا۔ اس کا مین ہیڈ کوارٹر تہران میں ہے، اکنامک بیورو ترکی میں جبکہ سائنٹیفک بیورو پاکستان میں موجود ہے۔ اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن کے ویسے تو دس ملک ممبرز ہیں لیکن پاکستان ایران اور ترکی اس کے فاؤنڈر ممبرز ہیں ۔۔

اس گروپ میں افغانستان، آذربایجان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں ۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ تمام مسلم ممالک ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

اس تنظیم کو یورپی یونین کی طرز پر بنایا گیا تھا مگر اس میں کئی مسائل رکاوٹ بنے رہے جن کی وجہ سے اس کے پوٹینشل سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ افغانستان ان ممالک کے درمیان میں آتا ہے۔ یہ ملک مسلسل خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ اسی طرح بہت سے سینٹرل ایشین ممالک 1991 تک آزاد نہیں تھے۔

ان تمام رکاوٹوں کی وجہ سے آج پاکستان، ایران اور ترکی کا آپس میں ٹریڈ بہت کم رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت کا حجم 2008 میں 1.2 ارب ڈالرز کے آس پاس تھا۔ بعد میں ایران پر پابندیاں لگ گئی جن کی وجہ سے یہ ٹریڈ پہلے 430 ملین ڈالرز اور اب صرف 300-350 ملین ڈالرز تک کم ہو گیا ہے۔

پاکستان میں ترکی کی طرف ایک اٹریکشن تو ہے لیکن یہ اٹریکشن اکنامک ٹرمز میں ٹرانسفر نہیں ہو پاتی ۔۔ان کا آپس میں ٹریڈ 600 سے 800 ملین کے درمیان رہتا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کا حجم ساڑھے نو، دس ارب ڈالرز تک ہے۔اب آتے ہیں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان میگا ریلوے لائن کی طرف اور دیکھتے ہیں کہ پاکستان کو اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھے گا جس سے تمام ممالک فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کے درمیان رشتے مضبوط ہوں گے۔اسی طرح ترکی یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور دونوں براعظموں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ترکی اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے ایک ریلوے لائن پہلے سے چل رہی ہے۔

اسلام آباد سے استنبول اور پھر وہاں سے یورپ۔ اس رستے سے پاکستان اپنا مال یورپی مارکیٹس تک بہت کم اخراجات اور کم عرصے میں پہنچا سکے گا۔ اس سے پاکستان کی ایکسپورٹس میں بڑے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ مستقبل میں ای سی او کے دیگر ممالک سے بھی اس ریلوے لائن کو ملایا جا سکتا ہے۔ افغانستان میں امن ہو جاتا ہے تو یہ بہت بڑا اقتصادی بلاک بن جائے گا کیونکہ یہ معدنی دولت سے مالا مال خطہ ہے۔ایک اور ممکنہ فائدہ یہ ہے کہ مستقبل میں سی پیک کو بھی اس ریلوے لائن سے جوڑا جا سکتا ہے جس سے چین کو بہت فائدہ ہو گا اور پاکستان کو راہداری میں بہت بڑی رقم وصول ہو گی۔

اس کے علاوہ سی پیک پر موجود اکنامک زونز سے بھی مال ایران سے ترکی اور پھر آگے یورپ بھیجا جا سکے گا۔گویا اس منصوبے کے امکانات لامحدود ہیں اور پاکستان، ایران، ترکی کے درمیان شروع ہونے والا یہ ٹرین منصوبہ اس خطے میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >