پاکستان کرونا کے معاشی اثرات سے باہر نکل آیا،اقتصادی میدان میں نئے ریکارڈز قائم

پاکستانی معیشت کے متعلق اچھی خبروں کا سلسلہ جاری ہے جن سے امید کی جا سکتی ہے کہ کورونا وبا سے متاثر ہونے کے بعد ملکی معیشت ایک بار پھر سے ٹریک پر آ گئی ہے۔ اس وقت معیشت کی صورتحال کیا ہے اور کون سی خوشخبریاں سامنے آ رہی ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں ڈالر کی قدر کی۔ گزشتہ برس مارچ میں ڈالر کی قیمت 158 روپے سے کم ہوئی تھی اور اس کے بعد بڑھنا شروع ہوئی۔ اگست 2020 میں ڈالر 168.43 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد اس کی قدر میں ایک بار پھر کمی شروع ہوئی اور گزشتہ روز 2 مارچ کو یہ 157.95 روپے تک گر گیا۔ یہ ایک برس بعد روپے کے مقابلے میں ڈالر کی سب سے کم قدر ہے۔

اگر روپے کے تگڑا ہونے کا تجزیہ کیا جائے تو چار سب سے اہم وجوہات سامنے آتی ہیں۔

پہلی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ختم ہونا ہے۔ کرنٹ خسارہ جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ بڑھے گا۔2020 کے پہلے 7 ماہ میں جاری کھاتوں کا خسارہ 2.5 ارب ڈالرز تھا۔ رواں برس کے پہلے 7 ماہ میں یہ خسارہ ختم ہو کر ایک ارب ڈالر سرپلس میں چلا گیا ہے جس سے ڈالرز پر بوجھ میں کمی آئی ہے۔

دوسری اہم وجہ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ہیں جنہوں نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ حکومت اسے عمران خان پر سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد قرار دے رہی ہے۔ سات ماہ میں بیرون ملک پاکستانیوں نے 16.5 ارب ڈالرز بھیجے۔ گزشتہ سال کے پہلے 7 ماہ کے مقابلے میں یہ 24 فیصد زیادہ ہیں۔ اگر یہی رفتار قائم رہی تو اس سال ملکی تاریخ میں ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ قائم ہو جائے گا۔

ڈالر کی قدر میں کمی کی تیسری وجہ ایکسپورٹس میں غیرمعمولی اضافہ ہے۔ ملکی تاریخ میں 2013 کے مالی سال کے دوران ایکسپورٹس 25 ارب ڈالرز تک پہنچی تھیں جو ایک ریکارڈ تھا۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن کے دور میں یہ گرنے لگیں۔

صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ 2016 میں ایکسپورٹس 20.5 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں۔ 2017 میں ان میں تھوڑا سا اضافہ ہوا اور یہ 21.87 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں۔ 2018 میں مزید بہتری سامنے آئی اور ایکسپورٹس 23.6 ارب ڈالرز ہو گئیں۔

موجودہ حکومت کے آنے کے بعد اگرچہ شروع میں ایکسپورٹس میں اضافہ نہیں ہوا۔ بعد میں کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی سرحدیں بند ہو گئیں اور تمام ممالک کی ایکسپورٹس میں بڑی کمی واقع ہوئی۔ تاہم اب ان ایکسپورٹس میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جولائی سے فروری کے 8 ماہ کے دوران 16.30 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس ہوئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ میں ایکسپورٹس مسلسل 2 ارب ڈالرز سے زیادہ رہی ہیں جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔ اگر یہ ٹرینڈ جاری رہا تو 2020-21 کے مالی سال کے دوران ایک بار پھر 25 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ اگلے برس اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔

چوتھی اہم وجہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے ڈالر کی بیرون ملک اڑان میں بہت کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں نے بھاری رقوم بھیجی ہیں جن سے روپے کو استحکام ملا ہے۔

پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کئی ہفتوں سے 20 ارب ڈالرز پر مستحکم ہیں۔ اس کے علاوہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 7.41 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی کھلیں گے اور غربت میں کمی واقع ہو گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کلیکشن کسی بھی ملک کے لیے بنیادی معاملہ ہوتا ہے۔ حکومت کو جتنا زیادہ ٹیکس ملے گا اتنا ہی وہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکے گی۔

گزشتہ 8 ماہ کے دوران ایف بی آر نے اپنے طے کیے ہوئے ٹارگٹ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کر لیا ہے۔ اب تک 2900 ارب روپے کا ٹیکس جمع ہو چکا ہے جبکہ ایف بی آر کا ہدف 2898 ارب روپے تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >