سینٹ انتخابات نے ثابت کیا موجودہ اور سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں:مصطفیٰ کمال

مورخہ 4 مارچ 2021(پریس ریلیز) چئیرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں ایسی سیاست پر لعنت بھیجتا ہوں جہاں لیڈر اپنے نامزد نمائندوں کو ہی سینیٹ الیکشن سے قبل ہوٹلوں میں بند کرئے۔ ایسا صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب لیڈر خود اخلاقی اقدار کھو بیٹھے، الیکشن میں دھاندلی کرے، ووٹ خریدے اور بیچے تو اسے اپنے نمائندوں کے ضمیر فروخت ہونے کا بھی ڈر رہتا ہے۔

سینٹ انتخابات نے ثابت کردیا کہ موجودہ اور سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس طرز سیاست سے ملک میں کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں آئے گی۔ اس نظام کو جڑ سے اٹھا کر پھینکنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ انتخابات میں جو کچھ ہوا اس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور یہ محب وطن پاکستانیوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

جو لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مشغول ہیں انہیں اندازہ نہیں کہ بین الاقوامی طور پر انہیں کن نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پانچویں یوم تشکر کی پروقار تقریب سے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں شہر بھر سے پارٹی زمہ داران اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور سید مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہوئے انکی جدوجہد میں شانہ بشانہ چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم الله کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے کہ اس نے ہم سے بھائی کو بھائی سے ملانے کا کام لیا، آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے جب ہم صرف دو افراد وطن واپس آئے تھے تو ہم ظالم سے نہیں ڈرے، اب تو ہم کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ہمارے علاؤہ کسی کے پاس پاکستان کی ترقی کا فارمولا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہوگا تو سب کی سیاست بھی ہوگی،

اس لیے اناؤں کو ختم کر کے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، قومی اہداف کا تعین کرنا ضروری ہے، نظام میں اصلاحات کرنی ہونگی۔ نظام کی بہتری تک ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ناممکن ہے۔حکومت گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کا اعلان کرے۔ نظام میں اصلاحات لائے اور پھر قومی طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے ہر جماعت اپنا پارٹی منشور پیش کر کے عوام سے مینڈیٹ حاصل کرے۔

جمہوریت کی مضبوطی جمہوری نظام کی مضبوطی سے مشروط ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے نمائندے پاکستانی قوم کے دوسرے نمائندوں سے ہی بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر قوم خود سوچے کے انکا منتخب نمائندہ انہیں کس سمت میں لے کر جائے گا اور کیا انکا انتخاب درست ہے۔

ہم بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے ہم وطنوں سے نہیں۔ پارٹی صدر انیس قائم خانی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد 3 مارچ کو یوم تشکر کے ساتھ یوم عزم کے طور پر منائیں گے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے جو جدوجہد سید مصطفیٰ کمال نے شروع کی ہے اسے نا صرف ملک کے کونے کونے میں پھیلائیں گے بلکہ انسانیت کی خدمت کی ایسی مثال قائم کریں گے کہ ہمارے دشمن بھی اس کے معترف ہونگے۔

اس موقع پر سیکریٹری جنرل حسان صابر، سینیئر وائس چیئرمین اشفاق منگی، وائس چیئرمینز شبیر قائم خانی، ایڈوکیٹ سید حفیظ الدین، سیکرٹری اطلاعات سیکرٹری آسیہ اسحاق، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شمشاد صدیقی، نائب صدر ایڈوکیٹ صوفیہ سعید، جوائنٹ سیکریٹری نائلہ منیر اور فوزیہ حمید نے بھی تقریب کے شرکاء سے خطاب کیا۔

  • A politician who can’t find difference between Nawaz League/ PPP and PTI, then I can only say that you are morally corrupt yourself.

    Then there is no difference between PSP and Jamat-e-Islami


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >