کراچی میں21 سالہ نوجوان نے بس ہوسٹس کو گولی مارکر خود کشی کیوں کی؟

کراچی میں 21 سالہ نوجوان نے بس ہوسٹس پر فائرنگ کرکے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے انٹر سٹی بس اڈے تاج کمپلیکس ایم اے جناح روڈ پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں ملزم نے خود کشی بھی کرلی۔

رپورٹ کے مطابق 21 سالہ شاہ زیب ولد ملک محمد شعیب نے 23 سالہ تنزیلا جو ایک نجی بس سروس میں بطور بس ہوسٹس نوکری کرتی تھی پر فائرنگ کردی اور اس کے فوراََ بعد ہی خود کو گولی مار لی، واقعے میں لڑکی شدید زخمی جب کہ نوجوان کی ہلاکت ہوگئی، زخمی لڑکی کو تشویش ناک حالت میں کراچی کے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تنزیلا ایک سفید رنگ کی گاڑی کی جانب جارہی ہے جب شاہ زیب رکشے سے اتر کر اس کی طرف جاتا ہے، لڑکی کے قریب پہنچ کر شاہ زیب نے اس پر فائرنگ کردی ، اچانک فائرنگ کا نشانہ بننے والی تنزیلا زمین پر گر پڑی۔

شاہ زیب نے اس کے گر جانے پر فائرنگ روکی اور چند لمحے انتظار کیا پھر بندوق کار خ اپنی کنپٹی کی جانب کرتے ہوئے گولی چلادی، اس دوران تنزیلا نے اپنے موبائل سے کسی کو فون ملا کر تما م صورتحال بھی بتادی تھی۔

واقعے سے متعلق بریگیڈ تھانے کے ایس ایچ او ماجد کورائی نے خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی اور لڑکے کی شناخت کرچکے ہیں، پہلی نظر میں یہ کوئی پسند نا پسند کا ذاتی معاملہ لگتا ہے، شاہ زیب اسی بس اڈے پر ملازمت کرتا تھا اور اس کا تعلق کلر کہار چکوال سے تھا جبکہ تنزیلا بس ہوسٹس کی ملازمت کرتی تھی اور وہ بہاولپور کی رہائشی تھی۔

پولیس کے مطابق شاہ زیب نے فائرنگ کیلئے 9 ایم ایم کی پستول استعمال کی لڑکی کو تین گولیاں لگیں جبکہ لڑکے نے خود کو ایک ہی گولی ماری جائے واردات سے گولیوں کے خول ، آلہ قتل اور دیگر ثبوت اکھٹے کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>