پشاور زو بائیسکل شیئرنگ منصوبہ، جانئے کرایہ اور طریقہ کارکے بارے میں

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سائیکل شیئرنگ کا منصوبہ لایا جا رہا ہے جسے 10 مارچ سے عملی طور پر شروع کر دیا جائے گا۔

سائیکل شئیرنگ کا آئیڈیا اگرچہ پاکستان میں نیا ہے، تاہم مغربی ممالک میں یہ کافی پرانا ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں لوگ سائیکل شئیرنگ کے استعمال سے بخوبی آشنا ہیں اور اپنے روزمرہ کے کاموں اور تفریح کے لیے کرائے کی سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ اٹلی، پیرس، بیجنگ، ووہان، لندن، بارسلونا، نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی جیسے بڑے شہروں میں سائیکل شئیرنگ کے منصوبے کافی مقبول ہیں۔

زو سائیکل شیئرنگ منصوبے میں کل 360 سائیکلز شامل ہیں، جن میں سے 220 سائیکلز مختلف اسٹیشنز پر پہنچا دی گئی ہیں۔ زو سائیکل کی ساخت ایسی ہے کہ اس پر نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی بہ آسانی سفر کر سکتی ہیں۔

زو سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے 3 ہزار روپے قابل واپسی رجسٹریشن فیس جب کہ غیر ملکیوں کے لیے یہ فیس 5 ہزار روپے ہے، رجسٹریشن کے لیے تصدیق شدہ شناختی کارڈ اور بائیو میٹرک کی تصدیق لازمی ہوگی۔ سائیکل سروس کے لیے 3 پاس جاری کیے گئے ہیں جن کے ریٹس مختلف ہیں۔

زو سائیکل پر 30 منٹ تک سفر کرنے پر کوئی چارجز نہیں، جب کہ 31 سے 60 منٹ کا کرایہ 20 روپے، 60 سے 90 منٹ کا کرایہ 30 روپے، 90 سے 120 منٹ کا کرایہ 40 روپے، اور 120 یعنی 2 گھنٹوں کے بعد اس کا کرایہ 60 روپے ہوگا۔

ہفتے اور مہینے کا پاس استعمال کرنے والوں سے 5 اور 10 روپے کم کرایہ وصول کیا جائے گا، 72 گھنٹوں کے اندر سائیکل واپس کرنا ہوگی، اس کے بعد سائیکل لے جانے والا شہری چور تصور ہوگا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>