پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ، عمران خان بمقابلہ نواز شریف

صحافی و یوٹیوبر صدیق جان نے کہا ہے کہ عمران خان کا اعتماد کا ووٹ لینے کا عمل تاریخ ساز واقعہ ہے، تاریخ میں اس سے پہلے نواز شریف نے اعتماد کا ووٹ لیا تھا جس میں ان کے 33 ووٹ کم ہوگئے تھے۔

اپنے ویڈیو بلاگ میں صدیق جان نے کہا کہ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی وزیراعظم نے خود صدر کو سفارش کی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کا استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کریں تاکہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے سکیں۔

صدیق جان نے کہا کہ اعتما د کا ووٹ عمران خان سے قبل 1993 میں نواز شریف نے بھی لیا تھا مگر وہ واقعہ اور عمران خان کا ووٹ لینا ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، نواز شریف نے جو اعتماد کا ووٹ لیا وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری میں لیا گیا تھا۔

صدیق جان نے مزید کہا کہ 1990 میں جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تو یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی بنائی آئی جی آئی کی وجہ سے ممکن ہوسکا تھا، جو درحقیقت 9 جماعتوں کا پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے اتحاد تھا جسے اس وقت آئی ایس آئی نے فنڈنگ کی تھی۔

1990 کے انتخابات میں فوج کی مدد سے دھاندلی کی بدولت نواز شریف کو جتوایا گیا اور 6 نومبر کو نواز شریف نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا اور انہیں 153 ووٹ ملے ، جس کے بعد 18 اپریل 1993 اس وقت کے صدر غلام اسحق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا ۔

صدیق جان نے بتایا کہ نواز شریف نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، عدالت نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا اور 26 مئی 1993 کو وزیراعظم، کابینہ اور اسمبلیوں کو دوبارہ بحال کردیا، سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد نواز شریف کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تھا جو اس وقت ایک آئینی تقاضہ بن گیا تھا۔

بحالت مجبوری نواز شریف نے 27 مئی کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرکے اس میں نواز شریف پر اعتماد سے متعلق قرار داد پیش کی گئی جس کے حق میں 120 اراکین نے ووٹ کیے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>