عورت مارچ کو فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے،کیوں نہ انکوائری کرائی جائے؟پشاور ہائیکورٹ

عورت مارچ کو فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے،کیوں نہ انکوائری کرائی جائے؟پشاور ہائیکورٹ

عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف دائر مقد مے کے خاتمے کے لیے دائر رٹ پر سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین نے ریمارکس میں کہا کہ عورت مارچ والے کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں اور ان لوگوں کا ایجنڈا کیا ہے؟ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟

جسٹس روح الامین کے ساتھ بنچ میں جسٹس عتیق شاہ بھی موجود تھے۔ عورت مارچ کے منتظمین، ان کے وکیل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ چند عورتوں نے خواتین کے حقوق کے نام پر سارا ملک یرغمال بنا رکھا ہے، جسٹس روح الامین نے سوال اٹھایا کہ ان لوگوں کو فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟ کیوں نہ عورت مارچ کی انکوائری کو ایف ائی اے کے حوالے کریں تاکہ مکمل رپورٹ سامنے آئے۔

عدالت نے مزید ریمارکس میں کہا کہ آئین کے اندر اظہار رائے کا حق موجود ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہرکوئی اس کی آڑ میں مذہب اور ناموس رسالتﷺ کو نشانہ بنائے۔

عورت مارچ کے منتظمین نے موقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور شوکت اللہ شاہ نے توہین مذہب اور رسالتﷺ کے الزام میں عورت مارچ اسلام آباد کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جو مقامی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

انہوں نے دلائل میں کہا کہ مذکورہ مارچ خواتین کے حقوق کے حوالے سے تھا اور اس کو غلط رنگ دیا گیا ہے۔ عدالت نے مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >