خیبرپختونخوا: لوگوں کی زندگی سے کھیلا جانے لگا،جعلی کورونا ویکسین بیچنے والے گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے خیبر پختونخوا میں جعلی کووڈ ویکسین فروخت کرنے کے الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے،ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الرحمان نے پشاور ہائی کورٹ میں کووڈ نائنٹین ویکسین کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جعلی دوائیں اور کورونا وائرس ویکسین برآمد ہوئی ہے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا تفتیشی ایجنسی نے لاہور میں مہلک بیماری کے لئے استعمال ہونے والی جعلی کورونا ویکسین اور دیگر منشیات تیار کرنے والی فیکٹری کا بھی سراغ لگایا، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ پولیس فیکٹری کو سیل کرنے کے لئے لاہور روانہ ہوئی تھی۔

گذشتہ سال مارچ میں پولیس نے شہر کے علاقے ڈیفنس میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے ایک ویکسین فروخت کرنے والے مبینہ ڈاکٹر کو پکڑ لیا تھا،پولیس کے مطابق ڈاکٹر نے جعلی کلینک پر چھاپہ مارا تھا ، جہاں کورونا وائرس کے علاج کے لئےایک ویکسین فروخت کرنے کا اشتہار دیا گیا،اس معاملے کی تحقیقات کے لئے پولیس نے اسے گرفتار کرکے کسی اور مقام منتقل کردیا تھا۔

ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق ، گرفتار شخص پیشہ سے دانتوں کا ڈاکٹر تھا اور اس کی شناخت ڈاکٹر دیدار کے نام سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے اس پر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبے میں کووڈ 19 کے کیسز مثبت آنے کی شرح 12.3 فیصد رہی، 5 اضلاع میں کورونا کے مثبت کیسز 20 فیصد جبکہ 9 اضلاع میں 10 فیصد رہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >