جج آفتاب آفریدی کے مبینہ قاتل گرفتار، ملزمان کون نکلے؟

صوابی میں جسٹس آفتاب آفریدی کے قتل کا واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ نکلا، ملزم گرفتار

ڈی پی او صوابی محمد شعیب کا میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مقتول جسٹس آفتاب آفریدی کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، ملزموں میں عزیز عرف عزیزو سکنہ ڈاک کلے اور داؤد سکنہ ماشو بانڈہ شامل ہیں، ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کرلی گئی ہے۔

ڈی پی او صوابی کے مطابق گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے دیگر ملزموں کی بھی شناخت کرلی ہے اور گرفتاری تک ان کے نام صغیہ راز میں رکھے جارہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔

پولیس حکام کے مطابق دونوں خاندانوں کی آپس میں سات آٹھ سال سے دشمنی چلی آ رہی ہیں، صوابی پولیس نے موقع کی شہادت کو مد نظر رکھ بہترین تفتیش کے ذریعے صرف 2 روز میں ملزموں کو گرفتار کیا اور معاملہ حل کیا۔

ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ واردات میں تین گاڑیاں استعمال ہوئیں، ایک گاڑی پائلٹ کر رہی تھی ایک میں شوٹر تھے اور ایک گاڑی بیک اَپ کر رہی تھی۔

یاد رہے کہ 4 اپریل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تعینات جج جسٹس آفتاب آفریدی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سوات سے اسلام آباد جارہے تھے، کہ صوابی کے انبار انٹرچینج پر نامعلوم ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں معزز جج، ان کی اہلیہ، بیٹی اور نواسہ جاں بحق ہوئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >