ڈالر مزید سستا ہو کر 22 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا

ملکی معیشت میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے بعد ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ اس بڑی کامیابی کی وجہ حکومتی کوششیں ہیں جن کے باعث آج ڈالر کی نسبت روپیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہا ہے۔

آج انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں مزید 23 پیسے کمی ہوئی، جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 153.18 سے کم ہو کر 152.95 روپے کا ہو گیا ہے، جو 22 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

اس حوالے سے بروکرز کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے باوجود ملکی معیشت میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے بعد ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشیات نے بتایا کہ ڈالر کی گراوٹ اور روپے کی قدر میں بہتری کو خوش آئند ہے ڈالر کی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہونا ہے اس پروگرام کی مد میں پاکستان کو مزید 50 کروڑ ڈالرز ملیں گے۔

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے ڈالر پاکستان کو ملے ہیں جس سے ملک میں ڈالر وافر مقدار میں آئے ہیں جس سے نہ صرف روپے کی قدر بڑھی ہے بلکہ ڈالر کی قیمت میں نیچے آئی ہے۔

قبل بھی ڈالر کی قیمت میں کمی سامنے آئی تھی۔

  • محمد مالک اپنے بال پکرنے سے تو رہا کیوں کہ وہ ہے نہیں لہذا سر پکڑ کے سوچتا ہے میں کہا کہا سے بڈھے کھسوسٹ معاشی کھلاڑی پکڑ کے لا کے پرگرام کرتا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ اکانومی بس آج کے آج تباہ ہونے والی ہے ڈالر بس شوٹ کرنے والا ہے لیکن یہاں سب کچھ الٹ ہو رہا ہوتا ہے معاشی اعشارے پہلے سے بہتر ہو رہے ہوتے ہیں ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے ہر طرف معاشی صورتحال بہتری کے اثار نظر آتے ہیں اگلے ہی دنوں میں مجھے منہ کی کھانی پڑتی ہے اور میں دیکھاتا رہ جاتا ہوں پھر نجومی بن کر حکومت کے خلاف پرڈکٹ پیش گوئیاں کرنے لگتا ہوں بس تباہی آنے والی ہے اور وہ آتی نہیں اور میں سٹو ڈیو میں اپنے کیمرہ مین تک سے ذلیل ہوتا ہوں اب تو وہ مجھے چھڈو کے نام سے پکارتے ہیں

    • مالک حرام خور زادہ ھے اپنے کرپٹ حکمرانوں کو بہت مس کرتا ھے نواج کھوتے شریف اور زرداری بھٹو کا گریبان نہیں پکڑتا تھا جب یہ کرن ارجن کا جوڑا ملک لوٹ رھے تھے اور عمران خان کا گریبان پکڑنے کا بولتا تھا اب اگر عوام ان میڈیا والوں کے جھوٹ بولنے افواہیں پیھلانے پر اگر گریبان پکڑ یں تو مالک گنجے کو کیسا لگے گا ؟ مالک گنجا ٹی وی چینل پر اس بات کا جواب دینا پسند کرے گا ؟

  • وقت وقت کی بات ہے، کہاں اسحاق ڈار اربوں ڈالر مارکیٹ میں پھینک کر روپئے کو مستحکم رکھتا تھا اور اسی چکر میں سترہ ارب ڈالر گنوا بیٹھا اور دوسری طرف آج یہ حالت ہے کہ سٹیٹ بنک مارکیٹ میں ڈالر پھینکتا نہی بلکہ اکٹھے کرتا ہے یعنی خریدتا ہے تاکہ ڈالر مستحکم رہے اور اس کی قیمت مزید نہ گرے تاکہ ایکسپورٹ سیکٹر کو نقصان سے بچایا جائے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >