نواز شریف پرائمری پاس تھے جبکہ پی ایچ ڈی کا مکالہ لکھنے بیٹھے گئے:عمران خان نے اپنی کتاب میں ایسا کیوں کہا؟

نواز شریف پرائمری پاس تھے جبکہ پی ایچ ڈی کا مکالہ لکھنے بیٹھے گئے، جانیئے عمران خان نے اپنی کتاب میں سابق وزیراعظم سے متعلق ایسا کیوں کہا؟

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان جو کہ اب سیاسی اعتبار سے نواز شریف کے سب سے بڑے حریف ہیں انہوں نے اپنی کتاب "پاکستان، ایک ذاتی تاریخ” میں کئی ایک دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں جن میں سے ایک واقعہ بتایا کہ جب وہ پریشانی کے عالم میں نواز شریف کیلئے ایمبولنس ڈھونڈنے لگے تھے۔

اپنی کتاب کے صفحہ نمبر66 پر عمران خان نے لکھا ہے کہ 1970 میں ان کی نواز شریف سے پہلی ملاقات کلب کرکٹ کے دوران ہوئی تھی جو انہیں ایک نارمل مگر کھیلوں بالخصوص کرکٹ کے شوقین لگے جن کا آگے چل کر سیاست سے اتنا گہرا واسطہ پڑنے والا تھا کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ 1987 کے ورلڈ کپ سے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جانے والے ایک وارم اپ میچ کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری شاہد رفیع نے بتایا کہ قومی ٹیم کی قیادت وزیراعلیٰ نواز شریف کریں گے جبکہ کپتان عمران خان تھے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سن کر ایسا لگا کہ شاید نواز شریف ان لوگوں کی طرح ہوں گے جو کہ ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں مگر ان کی حیرانی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب نواز شریف ویو رچرڈ کے ساتھ ٹاس کیلئے میدان میں پہنچ گئے۔

عمران خان نے مزید لکھا کہ انہیں یہ دیکھ کر مزید جھٹکا لگا کہ نواز شریف ٹاس جیتنے کے بعد مدثر نذر کے ساتھ بطور اوپنر بلے باز سفید کٹ پہنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف مدثر نذر تھے جو کہ ہر طرح سے ویسٹ انڈیز کے بولنگ اٹیک کے لیے تیار ہو کر جا رہے تھے جبکہ دوسری طرف نواز شریف تھے جنہوں نے بیٹنگ پیڈ کیے اور سر پر فلاپی ہیٹ رکھے جا رہے تھے۔

موجودہ وزیراعظم کا اپنی کتاب میں مزید لکھنا ہے کہ اس وقت ویسٹ انڈیز کا بولنگ اٹیک بہت ظالم تھا ان کے پاس 90 کلومیٹر کی رفتار سے بھی تیز گیند کرانے والے 4 بولر تھے اور انہیں یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ نواز شریف زخمی ہو جائیں گے اسی پریشانی میں انہوں نے پتہ کرنا شروع کر دیا کہ کیا گراؤنڈ میں ایمبولنس موجود ہے؟

عمران خان کے مطابق یہ اسی طرح تھا جیسے کوئی پرائمری پاس بچہ پی ایچ ڈی کا مکالہ لکھنے بیٹھ جائے جبکہ کتاب میں انہوں نے خود کو اس وقت ابھی سکول طالبعلم سے تشبیہہ دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوش قسمتی تھی کہ پہلی گیند نواز شریف کے بلے کو بھی نہ لگی اور اگلی ہی گیند پر وہ کلین بولڈ ہو کر واپس پویلین لوٹ گئے جس پر عمران خان نے شکر کی سانس لی۔

  • ان کرپٹ خاندانوں سیاست دانوں نے ہر ادارے کو اپنی خواہشات کی لونڈی بنایا ہؤا تھا پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھی ہوئی تھی اب بھی کم عقل پٹواری غلاموں کی بات سمجھ میں نہیں آرہی ھے ان پٹواریوں کے لئے دعا کی ضرورت ھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >