جہانگیر ترین کے معاملے پر ذاتی دلچسپی کی درخواست،30ارکان اسمبلی کا وزیراعظم کو خط

تحریک انصاف کے30 ارکان اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے جہانگیرترین کے معاملے پر ذاتی دلچسپی لینے کی درخواست کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کے لئے وقت مانگ لیا۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے 6 ارکان قومی اسمبلی، 19 ارکان پنجاب اسمبلی اور 5مشیروں نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں وزیراعظم سے جہانگیر ترین کے معاملے پر ذاتی دلچسپی لینے کی درخواست کی ہے۔ ارکان اسمبلی کی جانب سے خط میں وزیراعظم سےملاقات کے لئے وقت مانگا گیا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خان صاحب آپ سے اپیل ہے کہ سوچیں، ہم بلیک میلرنہیں، تحریک انصاف کے ہمدرد لوگ ہیں ، پی ٹی آئی حکومت اورعمران خان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جہانگیرترین کےخلاف مقدمے بنا رہے ہیں، عمران خان ہمارے کپتان ہیں، ہم کسی قسم کی رعایت نہیں مانگ رہے، جہانگیرترین مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔

یاد رہے آج جہانگیر ترین کی عدالت میں پیشی کے موقع پر 6 ارکان قومی اسمبلی اور 21 ارکان صوبائی اسمبلی اظہار یکجہتی کیلئے عدالت پہنچے تھے۔

  • اس دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں جب بھی کو ئی غلط بندہ پکڑنے جانے کے قریب ہوتا ہے تو وہ دھمکانا شروع کر دیتا ہے اگر بندہ تگڑا ہے تو حکومت کو دھمکاتا ہے کہ تم مجھے جانتے نہیں میں حکومت گرا دونگا اور کچھ اور چور حکومت کے عہدیدار اسکے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں تا کہ چور ڈاکو کو کچھ نہ ہو اور اگر بندہ کمزور ہے تو وھ بھی پولیس وغیرہ کو ڈراتا ہے کہ تو مینوں جان دا نئی میں کون آں میرے ماموں یا چاچا فلاں منسٹر کے تلے چاٹنے والے ہیں اور دونوں صورتوں میں حکومت خوفزدہ ہو کر انہیں چھوڑ دیتی ہے یوں میڈیا کو بھی آرام آجاتا ہے اور چور چکاری ڈاکے زنی کرپشن لوٹ مار معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے اور سب لٹیرے لوٹ کے مال سے کعبے کو روانہ ہو جاتے ہیں اللہ کو دھوکہ دینے کے لئے جہاں فرشتے اللہ کی رحمت شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سب چوروں کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہتے ہونگے کہ کون لوگ او تسی

  • کوئی نہ کوئی ڈارامے اس ملک میں ہر ہفتے دو ہفتوں بعد میڈیا میں لانچ کر دیئے جاتے ہیں اس ملک کو اس اذیت ناک صورتحال سے نکالنا ہوگا جب تک عوام ان ڈاراموں کے خلاف احتجاج نہیں شروع کرے گی یہ کالی بھیڑیں کوئ نہ کوئ شوشا میڈیا پر چھوڑ دیا جاتا ھے اورایسی وجہ سے ملک کاسیاسی اور معشیت کا پہیہ جام ہو تا رہتا ھے اور ان تمام چیزوں کا برے اثرات عوام پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ میڈیا اور اداروں کی کالی بھیڑوں کی تجوریاں تو بھری ہوئی ہیں لیکن عوام پر ان تمام حالات کا بہت برا اثر پڑھتا ھے اور عوام ذلیل وخوار ہو رہی ھے ایک شوشا ختم ہوتا ھے دوسرا شروع ہو جاتا ھے عدالتوں سےفیصلے اور انصاف کا دور دور تک نام و نشان نہیں ھے بس تاریخ پر تاریخ اور میڈیا میڈیا کھیلتے جاؤ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >