وزیراعظم کے فحاشی سے متعلق بیان پر بحث جاری،حامی اور مخالفین آمنے سامنے

چند روزقبل وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست کالز موصول کیں جس میں انہوں نے عوام کے مسائل براہ راست سنے ۔ اسی پروگرام میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ حکومت بچوں کے خلاف جنسی تشدد میں اضافے کے بارے میں کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت قوانین موجود ہیں لیکن معاشرے کو بھی ذمہ داری نبھانی چاہیے، فیملی سسٹم کو بچانے کے لئے دین نے ہمیں پردے کا درس دیا، اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘

وزیراعظم کے اس بیان سے چند لوگوں نے یہ یہ تاثر لیا کہ وزیر اعظم عمران خان معاشرے میں جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کی وجہ خواتین کا پردہ نہ کرنے کو قرار دے رہے ہیں ہے۔

وزیر اعطم عمران خان کے اس بیان کے چرچے نہ صرف پاکستانی سوشل میڈیا پر رہے بلکی عالمی میڈیا نے بھی اس پر شہ سرخیاں جمائیں۔

سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے اس بیان پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آ یا۔ جہاں ایک طرف صارفین ان پر شدید تنقید کر رہے ہیں وہیں ان کے بیان کی حمایت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم کے بیان پر مبنی ایک خبر شیئر کی اور اس کے ساتھ قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیا اور لکھا کہ ذمہ داری مردوں پر عائد ہوتی ہے۔

اگلی ٹوئٹ میں جمائما نے مزید لکھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ترجمے کی غلطی ہے یا عمران خان کی بات کو غلط پیش کیا گیا ہے کیونکہ جس عمران کو میں جانتی ہوں وہ کہتا تھاکہ پردہ عورتوں کے نہیں بلکہ مردوں کی آنکھوں پر ڈالنا چاہیے‘۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان دے کر عمران صاحب نے ریپ کا شکار ہونے والوں اور ان کے گھر والوں کا دل دکھایا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے بھی وزیر اعظم کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان کے بیان کو لاہور پولیس کے سابق سی سی پی او عمر شیخ کے بیان کے ساتھ جوڑا ہے جس میں پولیس افسر نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ایچ آر سی پی (پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن) نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عورتوں کے ریپ کو فحاشی و بے پردگی سے جوڑنے کے بیان پر معافی مانگیں۔

صحافی انصار عباسی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ عمومی طور پر سیاستدان میڈیا کے ڈر سے فحاشی کے خلاف بات نہیں کرتے۔ عمران خان کو شاباش کہ وہ بلا خوف اس بُرائی کے خلاف بات کرتے ہیں۔ دوسرے سیاستدان بھی ہمت کریں۔ اللہ تعالی سے ڈریں اور میڈیا کو بتا دیں کہ ہمارے دین کے فحاشی کے خلاف اور پردہ کے متعلق کیا احکامات ہیں۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے وزیر اعظم کے بیاں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنسی جرائم اور بچوں اور خواتین سے زیادتی کےواقعات کی روک تھام کیلئے دونوں کام کرنے پڑینگے، ۔سخت سزائیں جیسا کہ پھانسی دینا اور معاشرہ میں فحاشی پہ کنٹرول کرنا۔ یہی دونوں باتیں وزیراعظم صاحب نے کی ہیں کہ سخت سزائیں دینگے اوراسلامی قدروں کو فروغ دینگے انشاءاللّٰہ

مطیع اللہ جان نے ان سے پوچھا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر سے تاثر ملا کہ جیسے صرف خواتین کی بے پردگی نہ کہ مرد حضرات کی ہوس اور بری تربیت ملک میں فحاشی کا باعث بن رہی ہے،انہوں نے سوال کیا کہ کیا لندن میں خواتین کی ” بے پردگی“ مجھے، آپ کو، عمران خان یا ہم سب کے بچوں کو گمراہ کر سکتی ہے؟

تجزیہ کار ریما عمر نے وزیراعظم کے بیان کی ویڈیو شیئر کر کے انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ لوگوں کو اس بیان کی مختلف توجیہات پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

سوشل میڈیا پر وزیرِاعظم کے بیان کے خلاف ایک مذمتی خط بھی شیئر کیا جارہا ہے جس میں اب تک 200 سے زائد افراد اور خواتین کے حقوق سے وابستہ تنظیموں کے دستخط موجود ہیں۔ اس خط میں ان کے بیان کی مذمت کے ساتھ ساتھ عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔


ایک صارف لکھتی ہیں کہ ’کسی نے کیسا لباس پہنا ہے، کیسا دوپٹہ اوڑہا ہے اور میڈیا پر کیا دیکھتا ہے اس بارے میں فیصلہ کرنا ریاست کا کام نہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی انسان برقع پہنے ہو جینز پہنے ہو، اپنے محرم کے ساتھ ہو یا اکیلی ہو، وہ پورن دیکھتی ہو یا ارتغرل کے ڈرامے، ہر شخص کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف ثوبیہ اکبر نے اس حوالے سے ایک تھری پوسٹ کیا۔ انھوں نے لکھا ’خان صاحب نے قطعی نہیں کہا کہ ریپ کا شکار ہونے والی متاثرہ خواتین یا بچیوں کا لباس ان واقعات کی وجہ بنتا ہے۔ انھوں نے بحیثیت مجموعی معاشرے میں فحش مواد تک بڑھتی ہوئی رسائی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اخلاقی گراوٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اور جہاں تک پردے کی بات ہے تو ضروری نہیں کہ پردہ صرف عورت کے لباس کا ہو، پردہ مرد کی آنکھ کا بھی ہوتا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے ایسا بیان دیا گیا ہے بلکہ یہ بیان ریپ اور جنسی تشدد کے بارے میں ان کی سوچ کا عکاس ہے۔

نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے وزیراعظم کے فحاشی پھیلنے سے متعلق بیان کے دفاع میں کہا کہ عمران خان کے بیان کو غلط رنگ دے کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جانی چاہییں۔

اپ کو یہ بھی بتائیں کہ اس سے قبل نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خانن کا کہنا تھا کہ قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔ جنسی طور پر ناکارہ بنانے کیلئے کیمیائی یا سرجیکل طریقہ کار اپنایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں روزانہ کم از کم 11 عصمت دری کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ پچھلے چھ سالوں میں پولیس میں 22،000 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

اِس وقت جنسی / زیادتی تشدّد کو روکنے کے لیے متعدّد قوانین موجود ہیں، جن میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ، زینب الرٹ اور بعض سنگین صُورتوں میں دہشت گردی ایکٹ وغیرہ شامل ہیں لیکن گواہوں کا نہ ملنا، پولیس کی طرف سے تفتیش اور عدالتوں میں مقدمات پیش کرنے میں تاخیر، مقدمے کی سماعت کے طویل اور پھر قوانین پر عمل درآمد کا فقدان اس ناسور کی آب یاری کر رہے ہیں، جو بچّوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کی شکل میں ہمارے معاشرے پر ایک بدنُما داغ ہے۔

مجرموں کو سزا ملنی چائیے ۔ جب تک ایسے لوگوں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا تب تک ایک مہذہب معاشرے کا قیام ممکن نہیں ہے

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے معاشرے کو اپنا کردار کیسے ادا کرنا چائیے۔

ناظرین دنیا بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ایک ایسے آلہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جس نے بلواستہ یا بلاواستہ انسانی سوچ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔ اگر ہولی وڈ بال وڈ پر دکھایا جانے والا مواد معاشرے میں فحاشی کا باعث ہے تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو منفی رویوں اور معاشرتی برائیوں سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے جیسا کہ پاکستانی ڈرامہ فلم انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے کانٹنٹ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

  • وزيراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے سو فيصد سچی بات کی۔
    خواتين سے زيادتی کے واقعات کی جو فہرست دنيا بھر ميں شائع ہوتی ہے اُس ميں پاکستان اور کوئی دوسرا اسلامی مُلک بھی نہيں ، خواتين سے زيادتی کے کيسز امريکہ اور برطانيہ ميں سب سے زيادہ ہيں
    الّلہ کا شکر ہے پھر بھی ہمارا وزير اعظم خطرات سے آگاہ کر رہا ہے اور بے حيائی سے بچنے کا لئے معاشرے سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔
    انڈين ميڈيا اور بليو فلمز معاشرے کو بگاڑ رہے ہيں۔

  • وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ھے عمران خان نے کیسی کو فحاشی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا بلکہ ایک جنرل بات کی ھے کیسی پر الزام لگایا ھے خونی لبرل اس بیان کو غلط رنگ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کہ بہت افسوسناک بات ھے

  • اگر وجہ عمومی فحاشی، پورن، مغربیت اور سوشل میڈیا نہی تو پھر ستر اور اسی کی دہائی کی نسبت اب ریپ دس گنا زیادہ کیوں ہے؟ بھارت ہی میں دیکھ لیں کہ جیسے جیسے بالی وڈ اور ان کا ٹی وی فحش ہوتا گیا، ریپستان بنتا گیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >